پاکپتن دربار اراضی کیس، جے آئی ٹی رپورٹ پر فریقین سے15یوم میں جواب طلب

اسلام آباد(امجد بھٹٰی) سپریم کورٹ میں پاکپتن دربار اراضی سے متعلق ازخود نوٹس کیس، سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے رفیق رجوانہ عدالت میں پیش، معاملے پر جے آئی ٹی رپورٹ کو ون مین رپورٹ قرار دے دیا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری زمین کا تحفظ ہونا چاہیے۔

 

پاک پتن میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے مزار کی اراضی کی غیر قانونی کیس کی الاٹمنٹ کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ درخواست گزار افتخار گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ وہ جے آئی ٹی رپورٹ پراعتراضات اور جواب داخل کرا چکے ہیں، جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ دربار کی اراضی کیا اوقاف کی ہے یا سرکار کی؟ افتخار گیلانی نے بتایا کہ اوقاف صرف وقف املاک کی دیکھ بھال کرتا ہے، اس کی اپنی کوئی ملکیت نہیں ہوتی، جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے ایک سمری پر دستخط کر کے اراضی ایک پرائیویٹ آدمی کو دے دی۔

 

رفیق رجوانہ نے جو پہلی مرتبہ نواز شریف کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے عدالت کو بتایا کہ اراضی سجادہ نشین کو صرف دیکھ بھال کے لیے دی گئی، جو انہوں نے آگے فروخت کر دی، زمین محکمہ اوقاف سے واپس لینے کا نوٹیفکیشن سیکریٹری اوقاف نے جاری کیا۔ نواز شریف کا اس سارے معاملے میں کوئی کردار نہیں، سمری دستخط کرتے وقت کسی نے نہیں سوچا کے آگے کیا ہو گا۔

 

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری زمین کا تحفظ ہونا چاہیے، زمین کی الاٹمنٹ کی سمری اس وقت کے وزیراعلیٰ نے منظور کی، زمین کی الاٹمنٹ کا فیصلہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی تھی، حقائق جاننے کے لئے معاملے پر جے آئی ٹی بنوا کر تحقیقات کرائیں۔ رفیق رجوانہ نے جے آئی ٹی رپورٹ کو “ون مین رپورٹ” قرار دے دیا۔ عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ پر فریقین سے پندرہ یوم میں جواب طلب کر لیا۔ کیس پر مزید سماعت عید کے بعد ہو گی۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں