سپریم کورٹ نے ریلوے اراضی لیز کیس میں رائل پام انتظامیہ تحلیل کر دی

لاہور(پبلک نیوز) ریلوے اراضی لیز پر دینے کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت، سپریم کورٹ نے رائل پام انتظامیہ تحلیل کر دی، میسرز فرگوسن کو رائل پام کلب کا تمام رکارڈ فوری قبضے میں لینے کا حکم دے دیا۔

 

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ریلوے اراضی لیز پر دینے کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رائل پام کا کنٹریکٹ پہلے دن سے ہی غلط ہے، ریلوے سے مل ملا کر اراضی لے لی اور اربوں روپے کھا گئے۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ رائل پام والے بہت بااثر ہیں اتنے کہ آدھا ملک ان کی بات مانتا ہے۔ ریلوے کی اراضی کے پاس ہی رہے گی۔ سپریم کورٹ نے رائل پام کلب انتظامیہ تحلیل کر دی۔ چیف جسٹس نے مکمل فرانزک آڈٹ کا حکم دے دیا، ریمارکس دیئے کہ مکمل فرانزک آڈٹ ہونے تک کلب ریلوے کے پاس اور نہ شیخ رمضان کے پاس رہے گا۔ رائل پام کلب کا قبضہ فرگوسن کمپنی کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ فرگوسن کمپنی رائل پام کلب کی مینجمنٹ بھی سنبھالے گی۔

 

سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ میں زیر التواء کلب کے تمام مقدمات بھی منگوا لئے، رائل پام سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے تمام احکامات بھی غیر موثر کر دیئے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق رائل پام کلب میں تمام پروگرام اور سرگرمیاں معمول کے مطابق چلیں گی۔

 

ریلوے سے متعلق کوئی بھی ریکارڈ رائل پام کلب سے باہر نہیں جائے گا۔ چیف جسٹس نے ریلوے اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے پر پابندی لگا دی۔ ریلوے کی زرعی اراضی لیز کیلئے 3 سالہ مدت سے زائد دینے پر بھی پابندی عائد کر دی، عدالتی حکم کے بعد رائل پام کلب کی پرانی انتظامیہ اب کلب کی حدود میں داخل نہیں ہو سکے گی۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں