سپریم کورٹ: تھر میں بچوں کی غذائی قلت سے اموات کے معاملہ پر کمیٹی قائم

اسلام آباد (پبلک نیوز) سپریم کورٹ نے تھر میں بچوں کی غذائی قلت سے اموات کے معاملہ پر کمیٹی قائم کر دی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دییے کہ بلاول بھٹو اور زرداری سے اپیل کہ وہ اپنا پیسہ ان علاقوں پر خرچ کریں۔

سپریم کورٹ میں تھر میں بچوں کی غذائی قلت سے بچوں کی اموات کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں چیف سیکرٹری سندھ سمیت دیگر سیکرٹریز پیش ہوئے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ تھر کے لوگوں کو گندم، غذائی اجناس مہیا کر دی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ معیاری خوراک اور طبی سہولتیں بھی دی جائیں، غیر معیاری خوراک نہیں ہونی چاہیے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں زیادہ آبادی ہندوؤں کی ہے جو گندم نہیں کھاتے۔ ایسے علاقوں میں چاول اور دالیں مہیا کر رہے ہیں۔ سولہ لاکھ لوگ بکھری ہوئی آبادیوں میں رہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے میں اتوار کو مٹھی جاؤں۔ یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔ ریاست نے ان لوگوں کے مسائل حل کرنے ہیں۔ مٹھی ہسپتال میں نوزائیدہ بچے فوت ہو رہے ہیں۔ اس معاملے کو جنگی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو اور زرداری سے اپیل کہ وہ اپنا پیسہ ان علاقوں پر خرچ کریں۔

چیف سیکرٹری سندھ نے عدالت کو بتایا کہ تھر کا تین فیصد علاقہ نہری اور ستانوے فیصد بارانی ہے۔ بارش ہو توکوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ عدالت نے کمیٹی قائم کرتے ہوئے تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں