پی ایس او وزیر اعلیٰ اور احسن جمیل پیش ہوں، ڈی پی او تبادلہ از خود نوٹس پر سماعت پیر تک ملتوی

اسلام آباد (پبلک نیوز) ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلہ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے پیر کے روز وزیراعلیٰ پنجاب کے پی ایس او کو طلب کر لیا ہے۔ وزیراعلیٰ کے دوست احسن جمیل گجر کو بھی پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا۔

ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ رات ایک بجے کیوں ٹرانسفر کیا گیا؟  آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس کے انتظامی معاملات 24 گھنٹوں کے لیے ہوتے ہیں۔ ڈی پی او کی تبدیلی انتظامی بنیادوں پر کی۔ کوئی سیاسی دباؤ نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غلط بیانی سے کام لیا تو آپ کو عہدہ سے ہٹا دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ یا اس کے پاس بیٹھے شخص کے کہنے پر تبادلہ ہوا تو یہ درست نہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ سیاسی مداخلت اور اثر و رسوخ برداشت نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کس طرح دباؤ کے تحت تبادلہ ہوتا ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ ان پر تبادلہ کے لیے کوئی دباؤ نہیں۔ اسپیشل برانچ اور دیگر ذرائع سے پتہ چلا رضوان گوندل درست معلومات نہیں دے رہے۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ڈی پی او رضوان گوندل کو بلایا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ڈی پی او کو وزیراعلیٰ سے ملنے سے روکا؟ آئی جی نے کہا کہ ڈی پی او وزیر اعلیٰ سے ملنے جا رہے تھے تو انہیں کہا کہ آج جا رہے ہیں آئندہ نہیں جانا۔ وزیراعلیٰ سے بھی کہا کہ آئندہ کسی کو بلانا ہو تو مجھ سے بات کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک خاتون پیدل چل رہی تھی، پولیس نے پوچھا تو اس میں کیا غلط ہے؟ آئی جی نے کہا کہ لڑکی کا ہاتھ پکڑا گیا۔

ڈی پی او رضوان گوندل نے کہا کہ 23، 24 اگست والے واقعہ کا قائم مقام آر پی او کو بتایا، پورا واقعہ آئی جی کو واٹس ایپ پیغام بھیجا۔ واقعہ والے دن 4 بجے فون آیا، آپ رات 10 بجے سے پہلے وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچ جائیں۔ احسن جمیل کو وزیراعلیٰ پنجاب نے بطور بھائی متعارف کرایا۔ احسن جمیل نے پوچھا کہ مانیکا فیملی کا بتائیں، لگتا ہے ان کے خلاف سازش ہورہی ہے۔

آر پی او نے بتایا کہ ناکہ پر مانیکا صاحب نے گاڑی نہیں روکی، جب پولیس نے پیچھا کر کے روکا تو مانیکا صاحب نے پولیس کو برا بھلا کہا۔

چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ رات ایک بجے تبادلہ کی کیا قیامت آئی تھی۔ صبح فساد پڑ جانا تھا؟ ہم آپ کا مؤقف مسترد کرتے ہیں کہ آپ نے ڈکٹیشن نہیں لی۔ چیف جسٹس نے ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے آئی جی کو کہا کہ مجھے آپ کی باتوں پر یقین نہیں ہے۔

آئی جی نے کہا کہ مجھ سے واقعہ کی تمام معلومات چھپائی گئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں ڈی پی او کا کیا قصور ہے وہ بے قصور ہیں۔

سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے پی ایس او کو پیر کے روز ساڑھے نو بجے پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے دوست احسن جمیل گجر کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

احمد علی کیف  2 سال پہلے

متعلقہ خبریں