نئی گاج ڈیم تعمیر کیس، سپریم کورٹ نے سندھ سرکار سے جواب طلب کر لیا

اسلام آباد(فرخ نواز) سپریم کورٹ میں نئی گاج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت، سندھ حکومت نے ایکنیک کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، سپریم کورٹ نے سندھ سرکار سے جواب طلب کر لیا۔

 

سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئی گاج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں بنچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس عظمت سعید کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ کیا نئی گاج ڈیم بن گیا؟ سندھ حکومت کا ایکنیک کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ڈیم کی لاگت کا پچاس فیصد ادا نہیں کر سکتے۔ ڈیم کی تعمیر سے متعلق واپڈا کے پرپوزل سے متفق ہیں۔


جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ واپڈا کا پرپوزل ایکنک نے تسلیم نہیں کیا، لگتا ہے لاگت کے معاملے پر وفاق کی دو اکائیوں میں غلط فہمی ہے، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ حکومت نے اضافی رقم کا پچاس فیصد ادا کرنا ہے، ڈیم کی کل لاگت 46 ارب، سندھ سرکار نے 10 ارب دینا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ایکنک آئینی فورم ہے جس کا احترام لازمی ہے، ایکنک کو معاملہ سپریم کورٹ نے بھیجوایا تھا۔

 

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے عدالت بحریہ ٹاؤن والی رقم سے ڈیم کو پیسے دیے دے، جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بحریہ کی رقم سے ادائیگی نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ نے سندھ سرکار سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت سماعت مئی کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں