تعلیم کے شعبہ میں ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی: سپریم کورٹ

اسلام آباد (امجد بھٹی) نجی سکول فیسز میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے شعبہ میں ریاست ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ مزید کہا کہ لگتا ہے والدین کو صرف ٹیوشن فیس پر اعتراض ہے دیگر چارجز پر نہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں نجی اسکولز کی فیسوں سے متعلق کیس میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اہم ریمارکس کہا کہ فیس میں اضافہ ٹھوس وجوہات کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے۔ والدین کے پاس بچوں کو تعلیم دلوانے کے آپشن موجود ہیں۔ مرضی ہے بچوں کو سرکاری اسکول میں پڑھائیں یا نجی میں، ریگولیٹری اتھارٹی نجی سکولز کو کام سے نہیں روک سکتی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ لگتا ہے والدین کو صرف اسکولز کی ٹیوشن فیس پر اعتراض ہے دیگر چارجز پر نہیں۔ لیکن تعلیم کے شعبہ میں ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ ائیرلائنز کے بھی ایک ہی منزل کے سفری اخراجات مختلف ہوتے ہیں۔

کل ایک ایئرلائن کے دوسری ایئرلائن سے زائد کرائے کا کیس بھی عدالت آ جائے گا۔ عدالت نے قانون کی تشریح کرنی ہے عملی مشکلات کو نہیں دیکھنا۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دئیے کہ ڈاکٹرز بھی کہتے ہیں کہ نجی اسکولوں کی فیس کو ریگولیٹ کیا جائے لیکن وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان کی فیس کو کوئی ریگولیٹ کرے۔ ایک ہی عمارت میں ہر ڈاکٹر اپنی من مرضی کی فیس لے رہا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ فیس میں اضافہ مجاز اتھارٹی کو مطمئن کر کے ہی کیا جا سکتا ہے۔ کیس کی سماعت کل دوبارہ ہوگی جس میں والدین کے وکیل دلائل جاری رکھیں گے۔

احمد علی کیف  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں