جعلی اکاؤنٹس کیس: ایس ای سی پی نے جے آئی ٹی کے الزامات مسترد کر دیئے

اسلام آباد (پبلک نیوز) سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے جے آئی ٹی رپورٹ میں الزامات مسترد کر دیئے۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائے جواب میں کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی آبزرویشن حقیقت کے خلاف اور قانونی طور پر غلط ہیں۔ ادارے کے جواب میں وضاحتیں بھی شامل۔

تفصیلات کے مطابق جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں بنائی جانے والی جے آئی ٹی رپورٹ میں سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا حوالہ دیا گیا۔ جس پر ایس ای سی پی نے اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا۔

جواب میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ غلط اور بے بنیاد ہے۔ سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے جے آئی ٹی کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ ایس ای سی پی نے بتایا کہ اٹلس بینک، مائی بینک اور عارف حبیب بینک کا مرجر سٹیٹ بینک کے منظور شدہ سویپ کے مطابق ہوا۔

ایس ای سی پی کی جانب سے بتایا گیا کہ تین بنکوں کے مرجر سے متعلق ایس ای سی پی کے کردار پر الزام کشی کی گئی۔ جے آئی ٹی نے تین بنکوں کے مرجر سے متعلق انتظامات پر ایس ای سی پی بے بنیاد آبزرویشن دی ہیں۔ جے آئی ٹی کے ایس ای سی پی سے متعلق آبزویشن کو ختم کیا جائے۔ جے آئی ٹی کی آبزرویشن حقیقت کے خلاف اور قانونی طور پر غلط ہے۔

ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے صرف مسترد نہیں کی بلکہ کہہ دیا کہ ادارے سے جے آئی ٹی نے کوئی رابطہ ہی نہیں کیا۔ رابطہ ہوتا تو خدشات کا جواب دیا جا سکتا تھا۔ ایس ای سی پی نے حسین لوائی کی تین بینکوں کے انضمام سے متعلق لکھی تحریریں جواب کا حصہ بنا دیں۔

ادارے نے بتایا ہے کہ اکتوبر دو ہزار آٹھ میں عارف حبیب بینک کا ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں اور بینک کے ساتھ ایم او یو سائن ہوا ہے۔ ٹیک اور آرڈیننس کے تحت ایس ای سی پی نے نے تب ایک خط عارف حبیب بینک کو لکھا کہ تمام امور کا خیال رکھا جائے۔

بعد ازاں پھر عارف حبیب بینک کو قواعد پر عمل نہ کرنے پر شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا۔ شوکاز نوٹس کے جواب میں بینکوں کے شیئرز حاصل کرنے والے سرور انویسٹمنٹ کے حسین لوائی نے جواب دیا۔ حسین لواہی نے ایس ای سی پی کو تب ہی بتا دیا تھا کہ سٹیٹ بنک نے انہیں این او سی جاری کیا ہے۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں