سینیٹ ارکان کا مفت ملنے والی چائے کے بجٹ میں اضافے کا مطالبہ

اسلام آباد(جمشید خان) قومی اسمبلی کے اراکین اپنی جیب سے گیلریوں میں ہائی ٹی کرتے ہیں جبکہ اراکین سینیٹ نے سرکاری خرچ پر ملنے والے چائے بسکٹ کے بجٹ میں اضافے اور مینیو تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔


تفصیلات کے مطابق عوام کو کفایت شعاری کا درس دینے والے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر سرکاری خزانے سے چائے پانی بھی اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اراکین سینیٹ کو اجلاس کے دوران گیلریوں میں چائے، بسکٹ منرل واٹر مفت دیا جاتا ہے اور یہ اخراجات سینیٹ سیکرٹریٹ کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

پبلک نیوز کو موصول دستاویز کے مطابق اراکین سینیٹ نے مفت ملنے والی چائے کے بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ اراکین سینیٹ نے چائے کا بجٹ سو روپے سے 275 روپے کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور چائے کا بجٹ بڑھانے کے ساتھ مینیو بھی تبدیل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

دستاویز کے مطابق اراکین سینیٹ نے اجلاس کے دوران سینیٹرز گیلریوں میں مہمانوں پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ دستاویز کے مطابق سینیٹ اجلاس میں وزراء کا سٹاف گیلریوں میں بیٹھ جاتا ہے جس سے سینیٹرز کو مشکلات ہوتی ہیں۔ گیلریوں میں مہمان سینیٹروں کی چائے پانی پر بھی ہاتھ صاف کردیتے ہیں۔ جس سے بدمزگی ہو تی ہے۔

دوسری جانب اراکین قومی اسمبلی کو گیلریوں میں ملنے والی ہائی ٹی کا بل قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں سے کاٹا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ کفایت شعاری مہم کے تحت کیا گیا ہے کہ اراکین اپنی تنخواہ سے گیلریوں میں کھائیں گے پیئں گے۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں