ملکی معاملات مشیروں سے چلانا غیر آئینی ہے: سینیٹر رضا ربانی

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ ملکی معاملات مشیروں سے چلانا غیر آئینی ہے۔ سترہ سپیشل اسسٹنٹ اور پانچ مشیر بنائے گئے ہیں کہیں ہم صدارت نظام کی طرف تو نہیں جا رہے ہیں۔

 

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں میاں رضا ربانی نے توجہ دلاﺅ نوٹس پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معاملات منتخب نمائندوں کے بجائے مشیروں سے چلائے جا رہے ہیں۔ سترہ سپیشل اسسٹنٹ اور پانچ مشیر بنائے گئے ہیں کہیں ہم صدارت نظام کی طرف تو نہیں جا رہے ہیں۔ 

سینیٹ اجلاس میں معاونین خصوصی کو دیئے جانے والے اختیارات پر سوال اٹھاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو اختیارات معاون خصوصی کو دئیے گئے ہیں وہ غیر آیئنی ہیں۔ وفاقی وزیر حساس معلومات کی حفاظت کا حلف اٹھاتے ہیں لیکن جس مشیر نے حلف نہیں اٹھایا۔ وہ قومی سلامتی کا محافظ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایسے مشیر کو کابینہ کے اجلاس میں بٹھانا سیکر ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ ایسا اقدام قبول نہیں کریں گے جو پارلیمانی نظام کے خلاف ہو۔

 

وقفہ سوالات میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر بحر مند تنگی اور وزیر مواصلات مراد سعید کے درمیان ٹول پلازوں سے حاصل رقم کے حوالے سے سخت تلخ کلامی ہوئی، وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ ٹول پلازوں کے پیسوں میں جو لوٹ کھسوٹ تھی وہ جعلی اکاونٹس میں جا رہی تھی۔ وقفہ سولات کے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ ملک میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد پانچ لاکھ اسی ہزار ہے۔ ایوان کو بتایا گیا کہ ترقیاتی بجٹ آٹھ سو ارب سے کم کرکے چھ سو پچھتر ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

 

میاں عتیق شیخ نے اینٹی بائیو ٹیک کے استعمال کے حوالے سے تحریک التواء پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ اینٹی بائیوٹیک کے غیر ضروری استعمال کے لیے قانون سازی کی جائے۔ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ نے اراکین کے مطالبے پر برطرف سٹیٹ لائف انشورنس کے ملازمین کا معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا۔

حارث افضل  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں