سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سانحہ ساہیوال پر جے آئی ٹی مسترد کر دی

اسلام آباد (پبلک نیوز) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سانحہ ساہیوال پر جے آئی ٹی مسترد کردی۔ کمیٹی نے وزیراعظم کو جوڈیشل کمیشن بنانے کے لئے خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ قائمہ کمیٹی نے سانحہ ساہیوال پر وزرا کے بدلتے بیانات کی بھی انکوائری کا حکم دے دیا۔

 

تفصیلات کے مطابق رحمان ملک کی زیرصدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا۔ مقتول ذیشان کی والدہ، بھائی احتشام، برادر نسبتی ساجد، خلیل کے بھائی جلیل اور جمیل بھی کمیٹی میں پیش ہوئے، قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے سانحہ ساہیوال پر جے آئی ٹی کو مسترد کر دیا۔

 

چیئرمین قائمہ کمیٹی رحمان ملک نے کہا کہ سانحہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کیوں نہیں بنایا جا رہا؟ مقتول ذیشان کی والدہ نے قائمہ کمیٹی سے التجا کرتے ہوئے کہا کہ ذیشان پر دہشتگرد کا الزام ہٹایا جائے۔ پولیس نے میرے بیٹے کو زندہ کیوں نہیں پکڑا؟ ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کو زندہ پکڑا لیکن میرے بیٹے کو کیوں نہیں؟ مقتول ذیشان کی والدہ کمیٹی اجلاس میں آبدیدہ ہو گئیں، انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے نے آئی سی ایس کیا تھا، میرا بیٹا کمپیوٹر سائنسز پر لیکچر بھی دیتا تھا۔

 

رحمان ملک نے کہا کہ ذیشان کے خلاف دہشتگردی کا کوئی مقدمہ ہے؟ سینٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا کہا جائیگا۔

 

قائمہ کمیٹی نے ذیشان کی والدہ کی درخواست پر وزرا کے بدلتے بیانات پر انکوائری کا بھی حکم دیدیا ہے۔ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ سیکرٹری داخلہ وزرا کے بدلتے بیانات کی انکوائری کریں۔ سینٹ کی قائمہ برائے داخلہ کے اجلاس میں ارکان آپس میں الجھ پڑے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی رحمان ملک نے کہا کہ آپس میں نہ لڑیں میں کارروائی معطل کر دوں گا۔ ہم آپس میں لڑیں گے تو آنے والے کیا تاثر لے گے۔

حارث افضل  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں