سینیٹ قائمہ کمیٹی اجلاس: گیس بلز میں اضافہ کیلئے حکومت ذمہ دار قرا ر

اسلام آباد (پبلک نیوز) سینیٹ سٹینڈنگ کمیٹی میں اوگرا اور گیس کمپنی حکام نے حکومت کو بلز میں اضافے کا ذمہ دار قرا ر دے دیا۔ کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات پر 40 روپے فی لیٹر ٹیکس اور گیس کی قیمتوں میں 10 سے143 فیصد اضافہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام پر ظلم و ذیادتی قرار دیا۔

اوگرا کو گیس کی قیمتوں کا جائزہ لے کر رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی، جس پر چیئرپرسن اوگرا نے کمیٹی کو بتایا کہ پہلے گیس کے بل تین سیلبوں تک مقرر تھے۔ اب 7سلیب کر دیئے گئے ہیں۔

پہلے سلیب میں 10 فیصد اضافہ، دوسرے میں15، تیسرے میں20 اور چھٹے اور ساتویں میں143 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو کل صارفین کا 2 فیصد ہے اور بہت زیادہ گیس استعمال کرتے ہیں۔

سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے قائم مقام ڈائریکٹر عامر طفیل نے کہا کہ صارفین کو غلط بل نہیں بھیجے گئے بلکہ حکومت کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے سبب واجبات میں اضافہ کیا گیا۔

انہوں نے سینیٹرز کو بتایا کہ گیس کمپنیاں اور اوگرا اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتے، جن صارفین کو 20ہزار سے زائد کے بل بھیجے گئے ہیں۔ ہم نے انہیں سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ 4 اقساط میں اس رقم کی ادائیگی کرسکتے ہیں۔

جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2 سے 5 ہزار روپے والا بل 35 سے 50 ہزار کس طرح ہو سکتا ہے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں