قومی اسمبلی میں وزیرستان واقعے سے متعلق تقریر پر شدید ہنگامہ آرائی

اسلام آباد(پبلک نیوز) قومی اسمبلی میں ارکان آج آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ شمالی وزیرستان واقعے پر علی محمد خان کے جواب پر اپوزیشن نے شدید ہنگامہ آرائی کی۔ بلاول بھٹو زرداری بھی نشست پر کھڑے ہو گئے۔ اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی میں بات ہاتھا پائی تک پہنچی تو اسپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔

 

قومی اسمبلی کے اجلاس ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا۔ شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں خار قمر چیک پوسٹ پر جھڑپ اور 13 افراد کی ہلاکت کے واقعے پر قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ حکومتی ارکان نے محسن داوڑ اور علی وزیر کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ وزیرمملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ ہمارے بھائی طاہر داوڑ کی لاش افغانستان سے ملی؟ لاش پاکستان کے حوالے کی جانی تھی یا افغانی پٹھو کے؟ پاکستانی جھنڈے اور دو قومی نظریہ کو جو نہیں مانتا اس کو ملک میں رہنے کا حق نہیں۔ علی محمد خان نے وزیرستان واقعے کے حوالے سے کہا کہ جن کی وجہ سے فساد پھیلا انہیں ایوان میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔

وزیر مملکت علی محمد خان نے اس معاملے پر جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کے ارکان اسمبلی ریاست پاکستان کو للکارتے ہیں۔ علی محمد خان کی تقریر پر ایوان میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔ علی محمد خان کے جواب کے دوران ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی، بلاول بھٹو سمیت اپوزیشن ارکان نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ ارکان آپس میں گتھم گتھا ہوئے تو اسپیکر کو اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنا پڑا۔ علی وزیر کی گرفتاری سے متعلق بھی اسپیکر آفس کو آگاہ کر دیا گیا۔ اقدام قتل، دہشت گردی اور 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا۔

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں