"اٹھارویں ترمیم کیخلاف نہیں لیکن تعلیمی نصاب،اعلیٰ تعلیم کے معاملات وفاق کےپاس ہونےچاہئیں"

لاہور (پبلک نیوز) وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اٹھارویں ترمیم کے خلاف نہیں ہے لیکن تعلیمی نصاب اور اعلیٰ تعلیم کے معاملات وفاق کے پاس ہونے چاہئیں۔ یکساں تعلیمی نصاب پر وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر تعلیم کو دعوت دی مگر وہ نہیں آئے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اٹھارویں ترمیم سے متعلق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اٹھارویں ترمیم کے خلاف نہیں ہے۔ یکساں تعلیمی نصاب پر وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر تعلیم کو دعوت دی مگر وہ نہیں آئے۔ انھوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ اسکیم پر سیاست کی گئی، تعلیم کے فروغ میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ اٹھارویں ترمیم کے خلاف نہیں ہیں۔ تعلیمی نصاب اور اعلیٰ تعلیم کے معاملات وفاق کے پاس ہونے چاہیں۔

شفقت محمود نے کہا کہ تعلیم کے فروغ میں سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ہر گریجویٹ تعلیم بالغاں میں حصہ لے اور اسے یقینی بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم کے خلاف نجی سکولوں کی انتظامیہ آواز اٹھا رہی ہے جبکہ وفاق المدارس کے منتظمین نے یکساں نظام تعلیم کے لیے حکومت کی کاوش کو سراہا ہے۔ مدرسوں اور دوسرے تعلیمی اداروں میں یکسانیت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تعلیم اچھی نہیں دی جا رہی تعلیم نظام میں بگاڑ ہے۔ مدرسہ اور سرکاری سکولوں سے پڑھنے والے بچوں کے لیےنوکریاں محدود ہو گئی ہیں۔ انگریزی نصاب پڑھنے والوں کو نوکریوں اور دیگر معاملات میں اچھے موقع ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے اسکولوں سے مزاحمت سامنے آ رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں ان کا تعلیمی نظام بہترہے۔ ملک میں یکساں نظام تعلیم نہیں۔ 2 کروڑ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے۔

احمد علی کیف  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں