نیب ہمارے ماتحت نہ اسے ہم کوئی ڈکٹیشن دے سکتے ہیں: شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آصف زرداری کا کیس کوئی 15 دن پرانا نہیں بلکہ 3 سال پرانا ہے 12 مرتبہ ان کی ضمانت میں توسیع بھی ہوئی۔ ہائیکورٹ ہمارے آئین کے مطابق بالکل آزاد ہے، ایگزیکٹو اور جوڈیشری کی اپنی اپنی حدود ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا قومی اسمبلی میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس بات کو ذہین نشین کیجیے کہ او آئی سی کا اجلاس کیوں بلایا گیا؟ ماہ رمضان میں سعودی عرب آفیشل سرگرمیاں انجام نہیں دیتے۔ مشرق وسطی کی کشیدہ صورتحال کی وجہ سے او آئی سی کا خصوصی اجلاس ہنگامی طور پر بلایا گیا۔ اس اجلاس میں پاکستان نے درخواست کی سپیشل اجلاس کشمیر کے مسئلے پر بلایا جائے۔

 

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری درخواست پر کشمیر کے حوالے سے سپیشل اجلاس بلایا گیا اور اس کا مشترکہ اعلامیہ جاری بھی کیا گیا۔ ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے تین اہم نکتے اٹھائے جن میں کشمیر اور اس کے بعد فلسطین کا مسئلہ تھا۔ عمران خان نے واضح کیا کہ مسئلہ فلسطین کی وجہ سے او آئی سی کا فورم بنا۔ وزیراعظم نے گولان کی پہاڑیوں اور یروشلم کو دارالحکومت قرار دینے پر تشویش کا اظہار کیا۔ تیسرا نکتہ نفرت انگیز تقاریر کا اٹھایا جو مسلمانوں کے خلاف کی جارہی ہیں۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر نے لوڈ شیڈنگ کی بات کی اس میں کوئی شک نہیں کہ جنریشن پلانٹ لگائے اور کیپسٹی بڑھی۔ لیکن ن لیگ کے دور میں سحری و افطاری کے دوران لوڈ شیڈنگ ہوتی رہی۔ آپ نے جنریشن تو بڑھائی مگر پوری طرح سے اقدام نہیں اٹھائے جس کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہوئی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے لائن لاسز کم کیے اور 81 ارب کی اضافی ریکوری بھی کی گئی۔ آپ نے جو بہتری کی ہے اسے ہم تسلیم کرتے ہیں جو ہم نے بہتری کی اسے آپ بھی تسلیم کریں۔ اپوزیشن لیڈر نے آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ یہ کیس کوئی 15 دن پرانا نہیں بلکہ 3 سال پرانا ہے 12 مرتبہ ان کی ضمانت میں توسیع بھی ہوئی۔ ہائیکورٹ ہمارے آئین کے مطابق بالکل آزاد ہے، ایگزیکٹو اور جوڈیشری کی اپنی اپنی حدود ہیں۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کیہ یہ کیس نہ ہم نے بنایا اور نہ نیب ہمارے ماتحت ہے جسے ہم کوئی ڈکٹیشن نہیں دے سکتے۔ عدالت نے پوری داستان سننے کے بعد ضمانت کینسل کی اور حکم جاری کردیا۔ جب گرفتاری ہوجائے تو اس کے بعد سپیکر اپنا استحقاق استعمال کرسکتے ہیں۔ آج یہ کہہ دینا کہ اس گرفتاری پر پورے ایوان کی کارروائی بلڈوز کردی جائے تو یہ عجلت ہوگی۔ نیب آزاد ادارہ ہے، نیب کو کسی قسم کی انتقامی کارروائی کے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔  ہم آج بھی کہتے ہیں نیب "اکراس دی بورڈ" کارروائی کرے۔ ہم نیب کے معاملات میں کبھی رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ اگر تحمل سے ایک دوسرے کی بات سنی جائے تو اس سے ایوان کا وقار بھی بلند ہوگا اور جمہوریت تقویت ملے۔

حارث افضل  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں