ہمیں اپنی معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے امن درکار ہے: شاہ محمود قریشی

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دونوں ممالک جانتے ہیں کہ ڈائیلاگ کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا اگر ہندوستان ایک قدم بڑھائے تو ہم دو قدم بڑھائیں گے۔

 

سینٹ اجلاس میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب بھی سینٹ میں مجھے طلب کیا گیا میں حاضر ہوتا رہا ہوں اور میں تمام ایشوز پر سینٹ کو مفصل بریفنگ دے چکا ہوں۔ سوال یہ ہے 2 ہمسائے جو ایٹمی قوتیں ہیں اور سات دہائیوں سے ایشوز چلتے آ رہے ہیں ہم اس پر ڈائیلاگ کر چکے ہیں اگرچہ تعطل کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ قاید حزبِ اختلاف کی جماعت بھی ڈائیلاگ کی بات کرتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک جانتے ہیں کہ ڈائیلاگ کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ اگر ہندوستان ایک قدم بڑھائے تو ہم دو قدم بڑھائیں گے۔ یہاں دونویں ممالک میں کڑوڑہا لوگ غربت کا شکار ہیں ہندوستان میں تعداد بہت زیادہ ہے۔

 

24 ستمبر دونوں ممالک کی یو این جی اے کے دوران ملاقات طے ہوئی پھر ازخود ہندوستان اپنے فیصلے کو تبدیل کر دیتا ہے اور ملاقات نہیں ہو پاتی۔ میرے نزدیک وہاں الیکشن ان کے سامنے ہیں کہ اگر ہم پاکستان کے ساتھ بیٹھے تو انہیں سیاسی نقصان ہو سکتا ہے۔ ہم نے انہیں کہا کہ جب آپ تیار ہوں پاکستان مل بیٹھنے کے لیے تیار ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ بات چیت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ اگر ہم معاشی بحالی چاہتے ہیں تو ہمیں امن درکار ہے۔

 

کرتارپور کوریڈور کا فیصلہ ہماری حکومت نے سکھ برادری کے دیرینہ مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا۔ جب کابینہ نے  منظور کیا تو ہم نے ہندوستان کو مطلع کیا تو فوراً انہوں نے سوچا کہ کہیں سارا کریڈٹ پاکستان نہ لے جائے اور وہ فوراً اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ایک دن قبل اپنی طرف سے سنگ بنیاد رکھتے ہیں۔ کرتارپور کاریڈور کھولنے کی افتتاحی تقریب میں جو 2 ہندوستان سے وزراء آئے وہ سرونگ تھے اور ساتھ پچاس جرنلسٹ آئے ہم نے جب ششما سراج کو مدعو کیا تو انہوں نے کہا کہ ہماری پہلے سے مصروفیات طے تھیں اس لیے معذرت کی۔

امرتسر میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگے یہ فیصلہ انہوں نے ہندوستان کی عوام کے پریشر پر کیا۔ ہمیں اپنی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لیے امن درکار ہے پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قیمت ادا کی ہے ہندوستان کو سمجھنا چاہیے۔ ہم نے 75 ہزار جانیں قربان کیں ہم نے کافی حد تک دہشت گردی پر قابو پا لیا ہے جس کا سارا کریڈٹ ہماری افواج اور عوام کو جاتا ہے۔ آج سے ایک سال پہلے امریکہ ساؤتھ ایشیا سٹریٹجی سامنے لاتا ہے جس میں ملٹری معاوبت روک دی جاتی ہے جو امداد نہیں ہے۔ ہمارے پیسے تھے لیکن پاکستان نے واضح کیا کہ افغان کے مسائل کا حل صرف افغان قیادت میں مذاکرات کی صورت میں ممکن ہے۔

 

پجھلے سترہ سال سے 30 لاکھ افغان باشندے ٹینٹوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ سترہ سال کے بعد ہماری بات سے سب متفق ہو رہے ہیں پاکستان نے پاکستان کے لوگوں نے بھاری قیمت ادا کی ہے لیکن اب ہم اپنا کردار افغانستان میں قیام امن کے لیے ادا کر رہے ہیں۔ لیکن یہ سب ایک لمحے میں نہیں ہوا اس کے پیچھے بہت بڑی ریاضت اور محنت ہوئی ہے اور محنت رنگ لا رہی ہے۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں