مسئلہ کشمیر: 5 دہاہیوں بعد بھارت کے موقف کو شکست ہوئی، وزیر خارجہ

 

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کا گھناؤنا چہرہ آج بے نقاب ہو گیا۔ عالم اقوام نے ہندوستان کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ 1965 کے بعد پہلی بار مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا۔ بھارت عالمی مبصرین کے لیے مقبوضہ کشمیر کھولے۔ پاکستان انشاء اللہ کشمیریوں کے ساتھ سفارتی اخلاقی اور سیاسی معاونت جاری رکھے گا جب تک وہ حق خودارادیت کا حق نہیں پا لیتے۔

 

وزارت خارجہ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے سیکورٹی کونسل کے اجلاس کے حوالے سے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے سلامتی کونسل کا اجلاس روکنے کی بہت کوشش کی۔ بھارت کا گھناؤنا چہرہ آج بے نقاب ہو گیا۔ مسئلہ کشمیر کو آج سلامتی کونسل میں سنا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں 12 دنوں سے مسلسل کرفیو نافذ ہے۔ عالم اقوام نے ہندوستان کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

 

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا نے تسلیم کر لیا کہ مسئلہ کشمیر ہندوستان کا اندرونی معاملہ نہیں۔ 1965 کے بعد پہلی بار مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا۔ سلامتی کونسل نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیےغوروفکر کیا۔ تاریخی کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید ہوم ورک کریں گے۔ پاکستان کا فیصلہ ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ آخری حد تک کھڑے ہیں۔ بھارت عالمی مبصرین کے لیے مقبوضہ کشمیر کھولے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جیسا کہ آپ کے علم میں تھا کہ آج پاکستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا۔13  اگست کو میرا خط صدر سیکورٹی کونسل اور تمام ممبران کو بھجوایا گیا۔ خط دیکھ کر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات اتنے پیچیدہ ہیں کہ ان پر اجلاس میں گفتگو ہونی چاہیے۔ بھارت نے سیکورٹی کونسل کا اجلاس رکوانے کی بھرپور کوشش کی۔

 

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میں نے کل گیارہ بجے وزارتِ خارجہ میں اہم اجلاس طلب کیا ہے۔ اس میں ہم اس پر مزید غور و خوض کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے صورتحال سامنے آتی جائے گی ہم اپنا لائحہ عمل طے کرتے جائیں گے۔ پاکستان کا فیصلہ ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ میری آواز اگر مقبوضہ جموں و کشمیر پہنچتی ہے تو انہیں پتہ چل گیا ہو گا کہ 14 اگست کو پاکستان کے گلی کوچوں میں کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور 15 اگست کو پوری دنیا میں یوم سیاہ منایا گیا۔

 

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ میں ہندوستان کو چیلنج کرتا ہوں کہ کشمیریوں کو آزاد کیجیے اور پھر ان کو جمع ہونے دیں، بے شک پانچ اگست کے اقدام پر رائے لے لیں۔ بین الاقوامی مبصرین کو وہاں تک رسائی دیں تو سچ سامنے آ جائے گا۔ پاکستان انشاء اللہ کشمیریوں کے ساتھ سفارتی اخلاقی اور سیاسی معاونت جاری رکھے گا جب تک وہ حق خودارادیت کا حق نہیں پا لیتے۔

 

مخدوم شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ میں آج پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ مسئلہ کہ جسے بھارت نے مختلف حیلوں بہانوں سے دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا آج بے نقاب ہو گیا۔ میں سلامتی کونسل کے ممبران کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں ہندوستان کی مخالفت کے باوجود اجلاس طلب کیا۔ ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹیکل مندوب اور اور یو این موور کو مدعو کیا گیا تھا کہ وہ حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کریں۔

 

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں