شہباز شریف کا ریمانڈ اور پروڈکشن آرڈر

نئے پاکستان میں ہر جانب بلا تفریق احتساب کی گونج ہے۔ کرپٹ عناصر کی کرپشن پر زیرو ٹالرینس کی پالیسی ہے۔ این آر او نہ دیئے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

مگر دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیتے ہیں۔ شہباز شریف زیرِ تفتیش ملزم ہیں۔ وہ نیب کے ریمانڈ پر ہیں۔ نیب ان سے اشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں مبینہ کرپشن پر تحقیارت کر رہا ہے۔ مگر ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کر نے سے نیب کی تفتیش متاثر ہوتی ہے۔

قانون کی رو سے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا اسپیکر کا صوابدیدی اختیار ہے۔ اسپیکر کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرے ۔ ماضی میں ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ چودھری امیر حسین نے پابندِ سلاسل جاوید ہاشمی کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں کیے تھے۔ تو آخر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کیوں ہر بار شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈرز جاری کر دیتے ہیں؟

اس سے نیب کی تفتیش بھی متاثر ہو سکتی ہے اور کیس طوالت کا شکار بھی۔ دوسری جانب یہ بات بھی اہم ہے کہ ریمانڈ پر موجود ملزم کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جا بھی سکتے ہیں یا نہیں؟

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں