شیخ رشید کو پی اے سی رکن بنانے پر شہباز شریف کی خاموشی

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ میری صحت بہتر ہے کمر کا درد چل رہا ہے ایاز صادق کی سعد رفیق کو پی اے سی کا رکن بنانے کے لیے لکھ کر بھیج دیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ دعا کریں علاج ہو رہا ہے اللہ تعالی خیر کرے گا۔ ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ فزیو تھراپی اور ایکسرسائز سے افاقہ ہو گا۔ ایاز صادق کی سعد رفیق کو پی اے سی کا رکن بنانے کیلئے لکھ کر بھیج دیا ہے۔

صحافیوں کی جانب سے شیخ رشید کو پی اے سی کا رکن بنانے پر شہباز شریف سے سوال کیا گیا جس کا جواب دینے سے انھوں نے گریز سے کام لیا۔

دوسری جانب مسلم لیگ نواز نے ایاز صادق کی جگہ خواجہ سعد رفیق کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا رکن بنانے کی درخواست سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوا دی۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی اجلاس ہونے پر اگر ممبر جیل میں ہے تو سپیکر اسکا پروڈکشن آرڈر جاری کردے گا اور حکام کے لیے ممبر کو اجلاس میں پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل شہباز شریف بھی پی اے سی کے چئیرمین بننے کے بعد سے زیادہ تر وقت اسمبلی اجلاسوں اور باقی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اجلاسوں میں گزارتے ہیں۔ انکی مصروفیات کے باعث جب وہ نیب کسٹڈی میں تھے توبھی پروڈکشن آرڈرز کے باعث نیب حکام تفتیش کے لیے وقت نہ ملنے کی شکایت کرتے تھے

ذرائع کے مطابق خواجہ سعد رفیق تو نیب کے ریمانڈ پر ہیں۔ کیا نواز لیگ نے خواجہ سعد کے لیے ریلیف کے حصول کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔ کیا ریمانڈ پر ملزم کا سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے لیے پروڈکشن آرڈر جاری ہو سکتا ہے اور کیا ممبر کو بھی کمیٹی اجلاس میں پیش کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ چئیرمین کو، کیا جیل اور تفتیشی عمل سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ذریعہ تو نہیں بنایا جا رہا؟

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں