بنک آف پنجاب کرپشن اسکینڈل میں خادم اعلیٰ کی انٹری ہو گئی

لاہور(ادریس شیخ) نیب کی بنک آف پنجاب کرپشن اسکینڈل میں تحقیقات کے دوران اہم پیش رفت، شہباز شریف نے سابق صدر پنجاب بنک نعیم الدین کو شیئرز کی خرید و فروخت سے متعلق منظوری دی، نعیم الدین نے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

 

بنک آف پنجاب کرپشن اسکینڈل میں خادم اعلیٰ کی بھی انٹری ہو گئی، نیب کی شریف فیملی کے خلاف تحقیقات میں اہم پیش رفت، بنک آف پنجاب کرپشن اسکینڈل میں خادم اعلیٰ کی بھی اینٹری ہو گئی۔ نیب لاہور نے بنک آف پنجاب کرپشن اسکینڈل میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے کردار جائزہ لینا شروع کر دیا، شہباز شریف نے سابق صدر پنجاب بنک نعیم الدین کو شیئرز کی خرید و فروخت سے متعلق منظوری دی۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نعیم الدین خان کو شیئرز خریدنے کی منظوری دی۔

پنجاب بنک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب، ایف بی آر جہانزیب خان، نواز اور شہباز شریف کے سابق نیب زدہ سیکریٹری افضال بھٹی، نیب زدہ سابق سربراہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ عمر سیف کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ نعیم الدین نے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا، انسائیڈ ٹریڈنگ کی اور اپنے ہی بنک کے شیئرز خریدے اور منافع پر بیچ دیے۔ نعیم الدین خان نے پنجاب بنک کے دس لاکھ شیئرز 83 لاکھ میں خریدے، ایک کروڑ 87 میں منافع پر بیچ دیے۔

 

نیب نے نعیم الدین خان کے بروکر سے تعلق اور پنجاب بنک میں ملازمت سے پہلے اور موجودہ اثاثوں کی تفصیل بھی مرتب کر لیں۔ پنجاب بنک کے سابق صدر، ڈپٹی سی ای او، سابق سی ایف او اور افسران کی اہلیت، تقرری، اثاثوں کی تفصیلات بھی مکمل، نیب نے پنجاب بنک کی برانچز کے کرائے اور ان کی مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات سے متعلق بھی تفصیلات بھی حاصل کر لیں۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں