منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کے دفتر ملازمین ملوث

لاہور(ادریس شیخ) نیب نے منی لانڈرنگ سے متعلق انکوائری میں شہباز شریف کے دفتر کے ملازمین ملوث ہونے کے ثبوت حاصل کر لئے ہیں۔ 2009 سے 2014 تک شہباز شریف کے دفتر کے کنٹریکٹ ملازمین منی لانڈرنگ میں ملوث نکلے ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق علی احمد خان اور نثار احمد نے جعلی کمپنیز کے ذریعے کرپشن کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ انکوائری میں ملوث دونوں مبینہ فرنٹ مین نے کروڑوں روپے شہباز شریف، سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کروائے۔ علی احمد خان اور نثار احمد کو منی لانڈرنگ میں شہباز شریف کی مکمل آشیرباد حاصل رہی۔

نیب ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ 5 سال تک ایوان وزیر اعلیٰ میں ملازمت کرنے والے دونوں افراد کو نیب نے طلبی کے مراسلے بھجوائے مگر پیش نہ ہوئے۔ دوبارہ طلب کیا جا رہا ہے۔ علی احمد خان اور نثار احمد منی لانڈرنگ انکوائری کا اہم کردار ہیں۔ اعلیٰ سیاسی شخصیت سے  متعلق بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نے اپنی بے نامی جائیدادوں اور کمپنیوں کو فروخت کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ 6 ماہ قبل العریبہ شوگر مل فروخت کرنے کا کہہ دیا تھا۔ العریبہ شوگر مل 6 ارب کے مالی فائدے میں جا رہی تھی اسکے باجود فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نے بے نامی دار ملازمین کو نیب کے روبرو پیش ہونے سے منع کر رکھا ہے۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں