وزیراعظم عمران خان نے اپنے دوستوں، حواریوں کو این آر او دیا:شہباز شریف

اسلام آباد(پبلک نیوز) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عمران خان کو کیا کسی پیر فقیر نے بتایا کہ میں نیلسن منڈیلہ بننے کی کوشش کر رہا ہوں۔ نیلسن منڈیلہ جھوٹ نہیں بولتا تھا یوٹرن نہیں لیتا تھا۔ این آر اور پر لعنت بھیجتا ہوں اور وزیراعظم ایوان میں آکر بتائیں ان سے کب، کس نے اور کس گواہ کی موجودگی میں این آر او مانگا ہے۔

 

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف ہوں عوام کا خادم ہوں۔ جھوٹ نہیں بولوں گا یوٹرن نہیں ماروں گا۔ عمران خان کو کیا کسی پیر فقیر نے بتایا کہ میں نیلسن منڈیلہ بننے کی کوشش کر رہا ہوں۔ نیلسن منڈیلہ جھوٹ نہیں بولتا تھا یوٹرن نہیں لیتا تھا۔ نیلسن منڈیلا بڑھکیں نہیں مارتا تھا نہ دھمکیاں نہیں دیتا تھا۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ این آر اور پر لعنت بھیجتا ہوں لیڈر آف دی ہاؤس سے پوچھیں کس نے این آر او مانگا کس نے مانگا۔ کس گواہ کے سامنے مانگا اگر انہوں نے یہ ثابت کردیا تو میں ہمیشہ کے لیے سیاست چھوڑ دوں گا. ورنہ قائد ایوان عمران خان جھوٹ بولنے پر ایوان میں معافی مانگیں۔

 

عمران خان اس ہاوس میں آ کر جواب دیں۔ گواہ کی بات اس لیے کی کہ عمران خان یوٹرن مار کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ عمران خان اس ہاوس سے بھی فرار ہیں۔ عمران خان سچی گواہ سے ثابت کریں ہمیں ان پر اعتماد نہیں۔ جھوٹے مقدمات ماضی میں بھی سہے اور آج بھی سہہ رہے ہیں۔ عقوبت خانے ماضی میں بھی دیکھے آج بھی دیکھ رہے۔ یہ گردن ان کے آگے نہیں جھکے گی۔ کٹے گی تو ملک کے لیے کٹے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ عمران خان بھی ہیلی کاپٹر کیس میں ملزم ہیں۔ چیئرمین نیب کو کس نے اختیار دیا کہ وہ جا کر ملزم سے ملے۔ مجھے تو چیئرمین عقوبت خانے میں آ کر ملے۔ خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کا نظام بہتر بنایا۔ آج ان کو ہر روز نیب کے نوٹسز آ رہے ہیں۔ سعودی پیکیج میں سابق وزیراعظم کی بھی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ ملک اور ایوان اس طرح نہیں چلے گا۔

 

میاں شہباز شریف نے فواد چوہدری کو مناظرے کا چیلنج کر دیا، اسی ہاؤس میں مناظرہ ہو جائے، جن منصوبوں میں لاگت بڑھنے کا کہا ان پر ثبوت دیں گے، یہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے، ہمیں آج بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیں، کیا بطور حکومت سنجیدہ ہیں کہ قومی منصوبوں پر کام کریں۔ ہمیں اپنے خدشات کو دور کر کے ملک کی ترقی پر توجہ دینا ہوگی، اگر ایسا نا ہوا تو ملک میں کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا ہے۔

 

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب سیل میں مجھ سے سوال بغیر کسی دستاویز کے پوچھے جاتے رہے۔ پنجاب انٹرٹینمنٹ کمپنی کی چار گاڑیوں کی واپسی سے متعلق سوالات پوچھے گئے۔ کمپنی کے مالک پرویز الہی تھے۔ ڈھائی ملین ڈالر کینیڈا بھجوائے گئے جو ایک کمپنی کو بھجوائے گئے۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ چوہدری شفقت محمود ہر فن مولا اور پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ شفقت محمود اس کمیٹی کے سربراہ تھے۔ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے تھے۔ نا پیسے واپس آئے اور نا ہی سامان آیا۔ مجھے نیب نے کہا کہ ہمیں تو پتہ ہی نہیں کہ ڈھائی ملین کا فراڈ ہے۔ نیب نے کہا کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ آپ کے خلاف تحقیقات کریں اس کیس میں۔ میں نے 56 کمپنیاں بنائیں ہیں اس سے متعلق تحقیقات کرو۔ 14سالوں میں بھی تک اس کیس میں کوئی پی رفت نہیں ہوئی۔

 

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم تحریک انصاف کو من مانی نہیں کرنے دیں گے۔ عمران خان کے ذاتی دوستوں کو این آر او کس نے دیا ہم نے نہیں دیا۔ ہم نے مشرف کی جیلیں کاٹی ہیں۔ان کو قیامت تک آس رہے گی کہ ہم ان کے پاس آئیں۔ آزاد پاکستان میں آیا تو پتہ چلا کہ الزام لگایا گیا کہ میں نے بجلی کے مہنگے منصوبے لگائے۔ اپوزیشن لیڈر وزیراطلاعات کو مناظرے کا چیلنج دے دیا۔

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں