ملک میں ایل این جی لانا جرم ہے تو میں  سزا کیلئے تیار ہوں: شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (پبلک نیوز) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت 5 ماہ کے دوران ناکام ہوچکی ہے۔ 2013 میں بجلی اور گیس کے مسئلے پر قابو پایا۔ ہم نے حکومت چھوڑی تو گیس، بجلی وافر مقدار میں موجود تھی۔ آج گھروں میں گیس اور بجلی نہیں ہے۔ حکومتی نااہلی کے باعث گیس کا مسئلہ پیدا ہوا اور حکومت نے قرضوں کے ریکارڈ توڑ دیئے۔

 

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج نہ گھروں میں بجلی ہے اور نہ گیس۔ بدقسمتی سے ایسی حکومت آئی ہے کہ مسائل تھے نہیں بلکہ خود ہی بنائے۔ اس حکومت نے ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ قرضہ لیا ہے۔ اس ملک میں بجلی اور گیس وافر مقدار میں تھی۔ پانچ مہینے پورے نہیں ہوئے کہ ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ موجودہ حکومت سے بہتری کی کوئی امید نہیں۔ وزیراعظم، وزیر خزانہ، وزیر اطلاعات یا کوئی اور وزیر معیشت پر بات کرنے نہیں آتے۔ یہ حکومت صرف این آر او پر بات کرتی ہے، عوامی مسائل پر نہیں۔

 

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 2013 میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ تھی ہم نے اس پر قابو پالیا۔ آج ملک ایک بار پھر لوڈ شیڈنگ کا شکار ہے۔ دینا کے سب سے کم ایل این جی پر چلنے والے پلانٹ بند کردیے گئے۔ اندازے کے مطابق یومیہ ایک ارب کا نقصان ہورہا ہے۔ اس ملک میں جے آئی ٹی کا بہت رواج ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس مسلے پر جے آئی ٹی بنائی جائے تاکہ عوام کو پتہ چلے۔ دوسرا مہینہ ہے کہ ملک میں نہ بجلی ہے اور نہ گیس۔ ایل ایم جی کے بارے میں طرح طرح کے بیانات دیئے گئے۔ ایل این جی لانے کا زمہ دار میں ہو، نیب جب چاہے حاضر ہو۔ اگر ایل این جی نہ لاتے تو آج ملک دیوالیہ ہوتا۔ ہم چاہتے کہ ملکی حالات اور معیشت بہتر ہو۔ ہماری اپوزیشن پی ٹی آئی کی اپوزیشن نہیں ہے۔

 

اس موقع ہر موجود مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پہلے چھ ماہ میں خسارہ 2.8 فیصد ہوا۔ ایک ہزار ارب روپے ملکی قرضہ بڑھا۔ ڈالر ایک سو چالیس روپے ہونے کی وجہ سے یہ سب ہوا۔ اسٹیٹ بینک سے پچھلے سال ہم نے قرض لیا تھا اب حکومت نوٹ چھاپنے پر مجبور ہو گٸی ہے۔ پیپلز پارٹی دور میں چھ فیصد گروتھ ہوٸی۔ بے روزگاری میں کمی کے لیے ہمیں 8 سے 9 فیصد تک جانا ہو گا۔

حارث افضل  4 روز پہلے

متعلقہ خبریں