جج کو ہٹانے سے نوازشریف کا کیس ختم ہوچکا ہے: شاہد خاقان عباسی

 

اسلام آباد(پبلک نیوز) شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج پردباؤ تھا تو نگران جج کو کیوں آگاہ نہیں کیا گیا۔ حکومت نے انصاف کے نظام پر گہرا وار کیا ہے۔ ویڈیو نے فیصلے کو متنازع بنا دیا ہے۔ دباؤ میں دیا گیا فیصلہ کیا انصاف کا نظام برداشت کر سکتا ہے؟

 

 

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا پریس کانفرس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جج پردباؤ تھا تو کیوں نگران جج کو آگاہ نہیں کیا گیا؟ جج نے دباؤ کے خلاف کسی تھانے یا کسی فورم پردرخواست کیوں نہیں دی؟ جج صاحب کی پریس ریلیز اوربیان حلفی میں تضادات ہیں۔

 

شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ حکومت نے انصاف کے نظام پر گہرا وار کیا ہے۔ جج کو ہٹانے سے نوازشریف کا کیس ختم ہوچکا ہے۔ نوازشریف اس وقت  غیرقانونی حراست میں ہیں۔ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ کسی کے خلاف بات نہیں کی۔

 

لیگی رہنماء نے کہا کہ ویڈیو نے فیصلے کو متنازع بنا دیا ہے۔ جج صاحب اپنی جان بچانے کے لیے کہانیاں بنارہے ہیں۔ جج کو عہدے سے ہٹانے کا واضح مطلب ہے دال میں کچھ کالا ہے۔ نوازشریف کیس سمیت دیگر مقدمات بھی شک و شبہ کا شکار ہوگئے ہیں۔

 

خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کوئی دوسری رائے نہیں، جج نے خود اعتراف کیا ہے کہ  دباؤ میں فیصلہ کیا ہے۔ جج کو ہٹانے سے شکوک و شبہات اور حکومتی مداخلت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ملک میں انصاف کے نظام پر عوام کی توقعات بحال کرنےکی ضرورت ہے۔ دباؤ میں دیا گیا فیصلہ کیا انصاف کا نظام برداشت کر سکتا ہے؟

 

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ سنجیدہ  معاملہ عوام کے سامنے رکھا کسی کی ہتک یا الزام نہیں لگایا۔ وزرا کی فوج عوام کی بجائے ایک جج کے دفاع میں مصروف ہیں۔ جج کو ہٹا دیا گیا لیکن جو فیصلے سے متاثر ہوا وہ جیل میں ہے۔ پٹیشن کی ضرورت نہیں سپریم کورٹ کے پاس سوموٹو کا اختیار ہے۔

احمد علی کیف  3 روز پہلے

متعلقہ خبریں