چیئرمین نیب کے معاملے پر قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے:شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد(پبلک نیوز) مسلم لیگ ن کے رہنماء اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چیرمین نیب کا ایشو سب کے سامنے ہے، ہم نے قومی نوعیت کا مسئلہ سب کے سامنے رکھنا ہے، اگر کسی نے اپنے دفتر کا غلط استعمال کیا تو یہ معاملہ سنگین نوعیت کا ہے۔

 

رہنماء مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے جاوید چوہدری صاحب کے انٹرویو کے الفاط کی تردید کی جبکہ جاوید چوہدری اپنی خبر پر قائم ہے، چیئرمین نیب نے انٹرویو میں کہا کہ ایسے شواہد ہیں، سامنے آئیں تو حکومت گر جائیگی، ایک نئی ڈیویلپمنٹ ہوئی ہے چیئرمین نیب کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ ایک چینل نے چلائی۔

 

ن لیگی رہنماء شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ ن آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ معاملے کا حصہ نہیں بنے گی، جس خاتون نے ریکارڈنگ کی وہ نیب کی زیر حراست رہیں اور ضمانت کرائی، اگر کسی نے اپنے دفتر کا غلط استعمال کیا تو یہ معاملہ سنگین نوعیت کا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ آڈیو ویڈیو بے بنیاد ہے، چیئرمین نیب کے بیان کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے، اب چیئرمین نیب کے دباؤ کے حوالے سے بیان کی کڑیاں شروع ہوتی ہیں، جس نے آڈیو ویڈیو ریلیز کی وہ طاہر خان صاحب ہے جو وزیراعظم کے دوست ییں۔

 

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ طاہر خان صاحب نے پی ٹی آئی کی مہم چلائی اور فنڈنگ دی، اب دباؤ کی کڑی وزیراعظم ہاؤس تک جا پہنچی ہے، سارے معاملے کے پیچھے وزیراعظم ہاؤس ہے۔ ایک اصول ہے جب تک جرم ثابت نہ ہو وہ بے گناہ ہے، لیکن وزیراعظم اور نیب کا اصول الگ ہے، یہان الزام لگتا ہے اور مجرم بنا دیا جاتا ہے، قائد حزب اختلاف کو ستر دن تک ریمانڈ پر کس کے کہنے پر رکھا، اب سامنے آئے گا، اب چیئرمین نیب پر الزام لگا ہے، ہم چاہتے ہیں چیئرمین نیب کو انصاف ملے۔

 

لیگی رہنماء کا کہنا تھا کہ کیا حکومت کے تابع ہے نیب، کیا حکومت کرپشن چھپا رہی ہے؟ ہم نے نیب کے حوالے سے سوال کئے اب ان کی کڑیاں ملنی شروع ہو گئیں، عمران خان کا کے پی کے میں احتساب سب نے دیکھ لیا، آج چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ حکومت کی کرپشن چھپائے، اب حقائق پاکستان کے عوام کے سامنے آنے چاہیے۔ ان معاملات میں ادارہ، وزیراعظم اور ان کے دوست سب ملوث ہیں اب معاملہ عام نہیں رہا، اصول یہ ہوتا ہے کہ الزام ثابت ہونے تک کسی کو بھی بے قصور مانا جاتا ہے، لیکن عمران خان اس اصول کو تسلیم نہیں کرتے۔


انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پہلے دن سے نیب کے حوالہ سے تحفظات تھے، کیا ان کے پیچھے عمران ہیں، کیا اس کے پیچھے حکومت ہے جو اپنی بدعنوانی چھپانا چاہتی ہے؟ کیا اپوزیشن لیڈر کو اٹھا لینے کے پیچھے عمران خان ہیں؟ ہم نے مقدمہ پاکستان کے عوام کے سامنے پہلے بھی رکھا آج بھی رکھتے ہیں، لیکن آج معاملہ سنگین ہو گیا ہے جس میں چئیرمین نیب، وزیر اعظم ان کے دوست و مشیر ملوث ہیں، ہم چاہتے ہیں قومی اسمبلی کے رول 244 کے تحت ایک کمیٹی بنائی جائے، یہ کمیٹی تمام معاملات کی جانچ کرے۔


سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قومی اسمبلی کے رولز کے تحت چیئرمین نیب کے معاملے پر خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اس معاملے میں ملوث ہے اسکا تعین کرے۔ دوسری جماعتوں سے بھی اس حوالے سے رابطہ کریں گے خواجہ آصف پیر کو قرارداد پیش کریں گے۔ اگر حکومت احستاب سے بھاگنا نہیں چاہتی اور کرپشن چھپانا نہیں چاہتی تو قرارداد پیش ہو گی۔ کمیٹی سے بھاگنا ثابت کرے گا کہ دال میں کچھ کالا ہے، آج تک حقائق کے مطابق دال پوری کالی ہے۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں