برصغیر کی بے مثال گلوکارہ شمشاد بیگم کو بچھڑے 6 برس ہو گئے

پبلک نیوز: برصغیر کی معروف گلوکارہ شمشاد بیگم کو بچھڑے 6 برس بیت گئے۔ خوبصورت آواز کی ملکہ شمشاد بیگم کے گیت آج بھی دلوں میں بستے ہیں۔

 

14 مارچ 1919 کو لاہور میں پیدا ہونے والی شمشاد بیگم کا شمار برصغیر کی چند اولین گلوکاراوں میں ہوتا ہے۔ معروف موسیقار ماسٹر غلام حیدر انہیں گلوکاری کے میدان میں لائے۔

 

شمشاد بیگم کے والد حسین بخش مان نے انہیں اس شرط پر گلوکاری کی اجازت دی کہ وہ برقع پہن کر گائے گی اور کبھی گاتے ہوئے تصویر نہیں بنائیں گی۔ جس کے بعد انہوں نے آل انڈیا ریڈیو لاہور اور پشاور سے نعتیں اور لوک گیت گا کر اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا۔

 

1940 میں شمشاد بیگم نے پنجابی فلم یملا جٹ میں پہلی بار اپنی گلوکاری کا جادو جگایا۔ کنکاں دیاں فصلاں پکیاں نے خواتین کا مقبول ترین گیت بن گیا

 

1941 میں شمشاد بیگم نے فلم خزانچی میں جو گیت گائے انہوں نے برصغیر میں مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے۔ فلم کی شوٹنگ لارنس گارڈن لاہور میں کی گئی۔

 

شمشاد بیگم نے6000 سے زائد گانے گائے ان کی فلم بابل کا وداعی گیت چھوڑ بابل کا گھر ان کی بیٹی کی رخصتی کے وقت بجایا گیا تو شادی میں شامل ہر شخص تالیاں بجاتا رہا۔ شمشاد بیگم 23 اپریل 2013 کو 94 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں