غفلت برتنے والے پولیس والوں کو جیل میں ہونا چاہیے تھا: شیری رحمان

اسلام آباد (پبلک نیوز) رہنماء پیپلز پارٹی شیری رحمان نے کہا ہے کہ ہمارے تھانے کیا بن چکے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کی معطلی کا اقدام نہ کافی ہے۔ مقدمہ درج نہ کرنے کا مطلب ہے پولیس ملزمان سے ملی ہوئی تھی۔ ملک میں غریبوں اور امیروں کے لیے الگ الگ قانون ہے۔

 

پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان کی فرشتہ کے گھر پہنچ گئیں جہاں انہوں نے معصوم بچی کے والدین سے اظہار تعزیت کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ فرشتہ کے افسوسناک واقعے سے دل صدمہ پہنچا ہے۔ پیپلز پارٹی نے غفلت برتنے والے پولیس والوں کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔ فرشتہ پورے قوم کی بیٹی ہے۔ فرشتہ کے افسوسناک واقعے کا معاملہ بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے گا۔ پولیس افسران کو معطل کرنا ممکن نہیں۔ فرشتہ ہمارے گھر کی بچی تھی۔ افسوسناک واقعہ وزیراعظم کے حلقے میں پیش آیا ہے۔ قصور واقعے کے بعد بھی اس طرح کے واقعے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

 

ان کل کہنا تھا کہ تھانوں میں فیملی دربدر پھرتی رہی ہے۔ پولیس والوں نے کہا کہ وہ بچی باہر کیوں گئی تھی۔ پولیس والوں سے پوچھا جائے گا۔ فرشتہ کا افسوسناک واقعے کا معاملہ سینیٹ میں اٹھائیں گے۔ پولیس مجرموں کو تحفظ دے رہی ہے۔ ہم دکھ کی اس گھڑی میں فرشتہ کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیا یہ نیا پاکستان ہے؟

 

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ میں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ آسمان گرے گی اور زمین پھٹے گی۔ بلاول بھٹو اور آصف زرداری نے بھی اس معاملے پر آواز اٹھائی ہے۔ واقعات کی ذمہ داری لینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ غفلت برتنے والے پولیس والوں کو جیلوں میں ہونا چاہئے تھا۔

حارث افضل  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں