شریف برادران کی ملاقات، نیب ریفرنس کے ممکنہ فیصلے پر حکمت عملی ترتیب

اسلام آبآد(پبلک نیوز) ایک بھائی ضمانت پر ایک بھائی پروڈکشن آرڈر پر ، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مسلم لیگ ن کو کمیٹی روم نمبر دو میں اہم اجلاس سے روک دیا۔ مسلم لیگ ن نے اپوزیشن لیڈرچیمبر میں ہی بیٹھک لگالی ۔ احتساب عدالت کے ممکنہ فیصلے کے تناطر میں عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ۔

 

مسلم لیگ کے سابق صدر نوازشریف موجودہ صدر شہبازشریف سے ملاقات کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس آئے۔ مسلم لیگ نے کمیٹی روم نمبر دو میں پارٹی اجلاس کا اعلان کیا تھا لیکن سپیکر آفس نے کمیٹی روم دینے سے انکار کر دیا، سپیکر آفس کے ذرائع کا کہنا تھا کہ نوازشریف ضمانت پر ہیں اور شہبازشریف پر بھی نیب کے مقدمات ہیں، نوازشریف رکن اسمبلی نہیں، کمیٹی روم استعمال نہیں کر سکتے۔

 

کمیٹی روم نمبر دو نہ ملا تو اپوزیشن لیڈر چیمبر میں ہی ن لیگ کا اہم پارٹی اجلاس ہوا۔ پارٹی تنظیم سازی ،عوامی رابطہ مہم، نیب ریفرنس کے ممکنہ فیصلے کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دی گئی۔ اجلاس سابق وزیراعظم نوازشریف اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل اور سربراہی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرجاری نہ ہونے کے معاملے پربھی غورکیا جارہا ہے۔

 

چوبیس دسمبر کے ممکنہ احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد کارکنوں کی ذہن سازی کے لئے مسلم لیگ ن نے عوامی رابطہ مہم پر بھی غور کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کو احتساب عدالت سے دوبارہ سزا ہوئی تو ن لیگ 30 دسمبر سے عوامی رابطہ مہم شروع کرے گی، جس کے لئے کارکنوں کو تیاری کا کہا دہا گیا ہے، فیصلہ نواز شریف کے حق میں ہوا تو نواز شریف کی خاموشی والی پالیسی ہی برقرار رہے گی۔

عطاء سبحانی  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں