شریف فیملی کیسز، قطری شہزادے کے بعد اماراتی شہزادے کی انٹری

لاہور (ادریس شیخ) نوازشریف کے قطری شہزادے کے بعد پیش ہے شہباز شریف کا اماراتی شہزادہ۔ منی لانڈرنگ کیس میں اماراتی شہزادے اور وزیر کلچر کی انٹری۔ شہبازشریف، حمزہ اور سلمان کی جانب سے غیر ملکی ترسیلات میں نہیان بن مبارک النہیان کا نام استعمال ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔

 

پانامہ لیکس سے متعلق کیس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے بیرون ملک اثاثوں کو قانونی ثابت کرنے کے لیے قطری شہزادے حماد بن جاسم بن جابرالثانی کے ساتھ کاروباری روابط کو استعمال کیا گیا۔ منی لانڈرنگ سے متعلق انکوائری میں نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ان کی اہلیہ اور صاحبزادوں سلمان اور حمزہ شہباز کو نامزد کیا گیا۔

 

نیب کو فراہم کیے گئے ریکارڈ میں نہیان بن مبارک النہیان کا نام استعمال کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے، نہیان بن مبارک النہیان کے نام سے 10 فروری 2014 کو 3 لاکھ 20 ہزار امریکی ڈالرز سلمان شہباز کے بنک اکاؤنٹ میں جمع کروائے گئے۔



نیب کو موصول ریکارڈ کے مطابق اماراتی شہزادے کے نام سے سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں نجی بنک کی سرکلر روڈ برانچ سے رقم جمع کروائی گئی، نیب کی جانب سے اس بنک ٹرانزیکشن کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔

 

منی لانڈرنگ سے متعلق انکوائری میں شہباز شریف اور اہل خانہ پر مبینہ فرنٹ مین کے ذریعے کرپشن کے ذرائع سے رقوم حاصل کرکے جعلی افراد کے نام سے جمع کروا کر قانونی آمدن بنانے کا الزام ہے۔

 

سلمان شہباز اور حمزہ شہباز سے اماراتی شہزادے نہیان بن مبارک النہیان کے نام سے کی گئی بنک ٹرانزیکشن کی وضاحت طلب کی گئی مگر شہباز شریف کے صاحبزادے وضاحت کرنے میں ناکام رہے۔

حارث افضل  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں