شہباز شریف فیملی کی پرانی کرپشن کی ایک اور نئی داستان سامنے آگئی

لاہور (شاکر محمود اعوان) نیب لاہورنے شہباز اینڈ فیملی کو لاکھوں ڈالرز منتقل ہونے کے مزید دستاویزی ثبوت حاصل کر لیے۔ نیب ذرائع کے مطابق 2008 سے 2009 میں شریف فیملی کے اکاؤنٹس میں 21 لاکھ 76 ہزار 235 امریکی ڈالرز منتقل ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق پرانی کرپشن کی ایک اور نئی داستان سامنے آگئی۔ 2008 سے 2009 میں 21 لاکھ 76 ہزار 235 امریکی ڈالرز شریف فیملی کو بے نامی دار اکاؤنٹس سے منتقل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیب نے شواہد حاصل کرلیے ہیں۔

پبلک نیوز کو موصول نیب دستاویزات کے مطابق حمزہ شہباز، نصرت شہباز اور سلمان شہباز سمیت دیگر فیملی ممبران کے خلاف منی لانڈرنگ کے مزید شواہد نیب کو موصول ہو چکے ہیں۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ نصرت شہباز، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو یہ رقم برطانیہ سے منتقل کی گئی۔ برطانیہ سے بے نامی ٹرانزیکشن کے زریعے پہلے رقم پاکستان منتقل ہوئی اور پاکستان رقم منتقل ہونے کے بعد پھر یہ رقم شریف فیملی کے اکاؤنٹس میں منتقل کردی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 1 سال کے دوران لاکھوں ڈالرز پر مشتمل 21 ٹرانزیکشن شریف فیملیز کے اکاونٹ میں کی گئیں اور 21 ٹرانزیکشن کے ذریعہ 15 کروڑ 23 لاکھ روپے نصرت شہباز، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو منتقل ہوئے۔

نیب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کالے دھن کو سفید کرنے کےلیے برطانیہ کی منی ایکسچینج عثمان انٹرنیشنل کو استعمال کیا گیا جبکہ منی ایکسچینج شریف، فیملی کے زاتی ملازم کے نام پر بنائی گئی تھی۔

قومی احتساب بیورو نے اس گھناؤنے عمل مین ملوث مزید افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ غیر ملکی رقوم کی منتقلی میں شاہد شفیق، اشفاق احمد، آفتاب محمود اور ایاز محممود بطور فرنٹ مین اپنی خدمات سر انجام دیتے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں