ملک کے دور دراز علاقے ہی نہیں اسلام آباد بھی پانی کی کمی کا شکار

اسلام آباد(ہرمیت سنگھ) پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی قلت کی شدت اختیار کر رہی ہے۔ پاکستان میں پچاسی فیصد لوگ صاف پینے کے پانی سے محروم ہے۔

 

پانی آب، ایل اگوا، اوبہ، واٹر کہیں یا ایچ ٹو او، زندگی کی بنیاد یہ شے ہر جاندار کی ضرورت ہے۔ انسان، چرند پرند سب ہی پانی مانگتے ہیں، لیکن زمین پر موجود وسائل کافی نہیں اور جس رفتار سے پانی کا ضیاع کیا جا رہا ہے کہ جب پانی کم یاب سے نایاب ہوجائے گا۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی پانی کی کمی کا شکار ہے، ماہرین تو دو ہزار پچیس تک خشک سالی کا ڈراوا بھی دیتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ پانی بچاؤ، زندگی بچاؤ۔

 

ملک کے دور دراز علاقے ہی نہیں اسلام آباد بھی پانی کی کمی کا شکار ہے، فلٹریشن پلانٹ لگانے کا بہانہ بھی انتظامیہ کی غفلت کے باعث کارگر نہیں ہوا، فلٹریشن پلانٹ خراب ہوکر بند ہو گئے یا پانی صاف کرنے سے ہی قاصر ہیں۔ موجودہ حکمران پانی کی کمی اور وسائل میں بہتری نہ کرنے کی ذمہ داری پچھلی حکومتوں پر ڈالتے ہیں تو پچھلی حکومتیں بھی زبانی جمع خرچ سے دامن سے مٹی جھاڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔

 

شہری بھی کوئی غافل نہیں، پانی کی اہمیت سے واقف ہیں، لیکن خود اقدامات کرنے کے بجائے صرف حکومت پر ہی انحصار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پوری دنیا میں پانی بچانے کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں، تو اہم دن منا کر شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن اب وقت کم ہے اور شعور کے ساتھ عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں