ہیلمٹ‌ کے بغیر پیٹرول کی فراہمی پر پابندی سے سکھ نوجوان پریشانی کا شکار

اسلام آباد(ہرمیت سنگھ) دستار سکھوں کی شناخت ہی نہیں، مذہبی عقائد سے جڑی پہچان بھی ہے، ہیلمٹ کی پابندی کی زد میں آئے سکھ نوجوان اپنی موٹرسائیکل کے لئے پیٹرول لینے میں بھی دقت اٹھا رہے ہیں اور چالان بھی بھر رہے ہیں۔

 

سکھ مذہب کے پانچ ککار کیس پہلا اور سب سے اہم کیس کی حفاظت کے لئے ہی نہیں اپنی شان آن بان کے ساتھ مذہبی احترام کے لئے بھی دستار اہم، سر کی دستار، جہاں مذہبی معاملہ ہے وہیں اس کے باندھنے کا انداز بھی محنت طلب ہے۔ ہیلمٹ کی پابندی تو سکھ نوجوان پریشانی کا شکار ہو گئے، ہیلمٹ پہنیں تو کیسے؟ دستار اتار نہیں سکتے اور ہیلمٹ کے بغیر پیٹرول پمپ پیٹرول نہیں دیتے اور ساتھ ہی ٹریفک پولیس چالان بھی تھما دیتی ہے۔

 

سکھ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ دستار کی ایک پر دوسری تہہ، خاص انداز سے باندھی دستار، حفاظت کے لئے بھی ہیلمٹ سے کم نہیں۔ دنیا بھر میں سکھ برادری کو ہیلمٹ کی جگہ دستار پہننے کی اجازت ہے، لیکن اپنے ہاں ابھی قانون سازی کی ضرورت ہے۔ کے پی حکومت نے تو بل منظور کر کے ضرورت دور کر دی ۔ اب سکھ برادری وفاق اور دیگر صوبوں کی اسمبلیوں کی طرف نظریں کئے ہوئے ہیں۔ پارلیمنٹیرینز اور پولیس افسر بھی قانون سازی کو ہی مسئلے کا حل بتا رہے ہیں۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں