سندھ اسمبلی میں جیل خانہ جات و اصلاحی سہولیات بل 2019 پاس ہو گیا

کراچی (پبلک نیوز) انگریزوں کے کالے قانون کے بجائے سندھ میں 125برس بعد نیا مسودہ قانون تیار، سلیکٹ کمیٹی اجلاس سے بل کو سندھ اسمبلی سے منظور کرا لیا گیا۔ نئے مسودہ قانون کے مطابق محکمہ جیل خانہ جات کانام اصلاح گھر ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی میں جیل خانہ جات و اصلاحی سہولیات بل 2019 پاس ہو گیا۔ پاس کردہ بل کے مطابق معمولی جرائم میں ملوث خواتین قیدیوں کو رہا، 18برس سے کم عمر بچوں کو قید نہیں کیا جائے گا۔ سنگین اوردہشتگردی جرائم کے علاوہ 18برس سےکم عمرملزم بچوں کو رہا کیا جا سکے گا۔

مسودہ قانون کے مطابق جیلوں میں صاف پانی کی فراہمی اور سزا مکمل ہونے پر قیدی رہائی لازمی ہو گی۔ خواجہ سراؤں اور کرمنل قیدیوں کے لیے الگ الگ بیرکس ہوں گی۔ آئی جی جیل کا تقررسینئر ڈی آئی جیز میں سے ہو گا۔ قیدیوں کی بائیو میٹرک میڈیکل اسکریننگ ہو گی۔

ملکی تاریخ میں سزا یافتہ اور انڈر ٹرائل قیدیوں کے اہلخانہ کو خصوصی الاؤنس بھی ملے گا۔ گھرکے واحد کفیل قیدیوں کے اہلخانہ کو حکومت ماہانہ گزارہ الاؤنس دے گی۔ قیدی اپنے خرچے پرجیل سے باہرکسی بھی اسپتال سے علاج کرا سکے گا۔

سندھ اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی نے نئے قانون پر 10سے زائد اجلاس کیے۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں