سندھ کے سرکاری سکولز کی تعمیر میں بدترین کرپشن

اسلام آباد (پبلک نیوز) سندھ کے سرکاری سکولوں کی تعمیر میں بدترین کرپشن کی گئی۔ سپریم کورٹ نے ضلع جیکب آباد کے 648 ترقیاتی منصوبوں کی تحقیقات کا حکم دیدیا۔ نیب تین ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی  کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سندھ کے ضلع جیکب آباد کے ترقیاتی منصوبوں میں خردبرد کے معاملے کی سماعت کی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سابق صوبائی وزیر اعجاز جاکھرانی عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کتنا پیسہ اب تک کھا گئے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ان کے خلاف اثاثوں سے زیادہ آمدن کی تحقیقات کی جا رہی ہیں چھ سو اڑتالیس سکولوں کی سکیم تھی، ڈی سی کی رپورٹ ہے کہ اڑتیس سکولوں کا وزٹ کیا گیا۔

چیف جسٹس نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ تئیس سکول تو موجود ہی نہیں تھے، سارے کے سارے معاملے پر تحقیقات کرکے ریفرنس دائر کیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن کے ریمارکس تھے کہ چھ سو اڑتیس سکولوں کے پیسے تھے صرف اڑتیس پر کام ہوا۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ نیب ڈی سی کی رپورٹ سے ہٹ کر تحقیقات کرے۔ چیف جسٹس کے سوال پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ وہ  کسی کا دفاع نہیں کر رہے ڈی سی کی رپورٹس میں تضادات ہیں۔ چیف جسٹس نے منصوبے کی فنڈز کے بارے میں پوچھا تو ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ اس کا رپورٹ میں ذکر نہیں ہے۔

 چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سندھ میں کاغذوں پر منصوبے مکمل ہو جاتے ہیں۔ زمین پر کچھ نہیں ہوتا۔ نیب آزادانہ انکوائری کرے بتائے کتنا خرد برد کیا گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ یہ صرف سکولز نہیں سڑکوں اور دیگر چیزوں کی بھی سکیم تھی۔ چیف جسٹس نے نامکمل منصوبوں کی تصاویر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل کو بھی تصاویر دیکھنے کو کہا اور کہا کہ کیا یہ ہے کام کا معیار؟ اربوں روپے کے منصوبے یا تو نامکمل ہیں یا سرے سے ہے نہیں۔ یہ بدترین کرپشن ہے۔ عدالت نے اپنے حکم نامے میں ضلع جیکب آباد کے 648 ترقیاتی منصوبوں کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ جامع تحقیقات کے بعد ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔ اربوں روپے مالیت سے بننے والے ترقیاتی منصوبے نامکمل ہیں۔

حارث افضل  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں