سندھ ہائیکورٹ کا قائم علی شاہ کو نیب سے تعاون جاری رکھنے کا حکم

کراچی( پبلک نیوز) سندھ ہائیکورٹ میں بحریہ ٹائون کو غیر قانونی الاٹمنٹ دینے سے متعلق انکوائری کا کیس، میرے خلاف نیب نے وٹھ پکڑ لگا رکھی ہے،16 اور گریڈ کے نیب افسران کو اوپر سے آرڈر ہے کہ بڑی مچھلی پکڑو، قائم علی شاہ کے مؤقف پر چیف جسٹس برہم ہو گئے۔

 

بحریہ ٹاؤن کو غیر قانونی الاٹمنٹ دینے سے متعلق انکوائری کا معاملہ، سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ سندھ ہائیکورٹ میں پیش، تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ قائم علی شاہ نے وزیراعلی کی حیثیت سے بحریہ ٹاؤن کو غیرقانونی الاٹمنٹ دی، شاہ صاحب آپ نے کراچی کی زمین کیوں دی؟ خیر پور کی زمین دے دیتے۔

 

چیف جسٹس برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ مالک نہیں ہیں، ان زمینوں کے جو غریبوں کی زمین الاٹ کر رہے ہیں۔ بحریہ ٹائون ویسے ہی اربوں کھربوں روپے دینے کی پیشکش نہیں کر رہا، وکیل صاحب آپ کو پتا ہے کتنی زمین بحریہ کے پاس؟ چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ نہیں مجھے نہیں معلوم، وکیل قائم علی شاہ کے مؤقف پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے جاکر دیکھیں تو وہاں کتنی زمینیں ہیں، جو غریبوں سے لے لیں گئیں۔ عدالت کا قائم علی شاہ کو نیب سے تعاون جاری رکھنے کا حکم۔

 

قائم علی شاہ دوران سماعت بولے میرے خلاف نیب نے وٹھ پکڑ لگا رکھی ہے، یہ کوئی وٹھ پکڑ نہیں، چیف جسٹس نے قائم علی شاہ کو نیب سے تعاون جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔ سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ نے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سولہ گریڈ کے نیب افسران کو اوپر سے آرڈر ہے کہ بڑی مچھلی پکڑو، میں تو چھوٹا آدمی ہوں لیکن پیپلزپارٹی عتاب کا شکار ہے۔ عدالت نے بحریہ ٹائون سے متعلق تمام یکجا کرتے ہوئے سماعت 24 اپریل کیلئے ملتوئ کردی۔ قائم علی شاہ کے خلاف ملیر ندی کی اراضی الاٹمنٹ کیس بھی تین مئی کیلئے ملتوی۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں