سندھ ہائی کورٹ میں اسکول فیس کیس کی سماعت، مالکان کو آخری وارننگ

کراچی (پبلک نیوز) سندھ ہائیکورٹ میں نجی اسکولز کی جانب سے تین ماہ کی فیس طلبی کے کیس کی سماعت ہوئی، سندھ ہائیکورٹ نے نجی اسکولز مالکان کو وارننگ دے دی کہ عدالت کو سختی پر مجبور نہ کریں، مئی میں سیشن ختم ہو تو جون اور جولائی کی فیس کا کیا جواز ہے؟

تفصیلات کے مطابق پرایئویٹ اسکولز کی جانب سے دو، دو اور تین تین ماہ کی فیس طلب کرنے پر عدالت کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا۔

جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دئیے آپ لوگ تو ٹیکس کے محکمہ سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ عدالتی حکم کی خلاف ورزی نہ کریں، ابھی نرمی سے کام لے رہے ہیں سختی پر مجبور نہ کریں۔ کیا اساتذہ کو بھی تین ماہ کی تنخواہ ایڈوانس میں دیتے ہیں؟ ان سے تو 50 ہزار روپے پر دستخط کرا کے 25 ہزار روپے دیتے ہیں اور طلبہ کو تین ماہ کی فیس کا چالان؟ کیا آپ لوگ سپریم کورٹ سے حق میں فیصلہ آنے کا انتظار کررہے؟

عدالت نے استفسار کیا اگر مئی میں سیشن ختم ہوجائے گا تو جون اور جولائی کی فیس کا کیا جواز؟ سیشن ختم ہونے کے بعد تو فیس ہی غیر قانونی ہوگی۔ ہم بار بار سمجھا رہے ہیں مگر آپ لوگ سمجھنے کو تیار نہیں۔

عدالت نے اسکول انتظامیہ کو نیا چالان جاری کرنے کے لیے 15 اپریل تک مہلت دے دی۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں