سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ ہمارا ہے:چیف جسٹس

لندن(پبلک نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ 40 سال سے ڈیم نہیں بنے، کیا یہ مجرمانہ غفلت نہیں؟ ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کی کوئی پروا نہیں، ڈیم کی تعمیر ایک تحریک بن چکی ہے، 7ہزارروپے پنشن لینے والا ڈیم کے لیے ایک لاکھ روپے چندہ لے کر آیا۔

 

لندن میں ڈیم فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ ہمارا ہے۔ 40 سال سے ڈیم نہیں بنے۔ ڈیم فنڈ قوم کی امانت ہے اس میں خیانت ہونے نہیں دوں گا۔ ڈیم فنڈ محفوظ ہاتھوں میں دے کر جاؤں گا۔ فنڈ سے 2 روپے بھی خرچ ہوئے تو اس کا شفاف حساب کتاب ہو گا۔ اسپتال کو دیکھنا سرکار کا کام ہے، میں اسپتالوں سے لفافے اکٹھے کرتا رہا، کیا یہ میرا کام تھا؟ کیا جعلی ادویات کی روک تھام کا حکومت کا کام نہیں؟

 

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ منشا بم کے زیر قبضہ جائیداد ایک دن میں واگزار کرائی۔ طاقت ور آدمی گرفتاری دینے کے لیے عدالت میں بیٹھا رہا۔ سپریم کورٹ نے بینکوں کی کم از کم پینش آٹھ ہزار مقرر کی۔ اسٹنٹ کی قیمت ایک لاکھ مقرر کرائی۔ نجی میڈیکل کالجز طلبا سے 34 سے 40 لاکھ فیس لیتے تھے۔ منرل واٹر والے 4 لٹر پر ایک پیسہ ٹیکس دیتے تھے۔ سپریم کورٹ نے ایک روپیہ مقرر کرایا۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ پری پیڈ کالنگ کارڈ پر ودہولڈنگ ٹیکس معطل کرایا، قوم اجازت دے تو ودہولڈنگ ٹیکس لگا کر پیسہ ڈیم فنڈ میں دیں۔ بے خوف، بنا مصلحت انصاف کرنے والا قاضی ملا تو پاکستان ترقی کرے گا۔ کسی بھی اسلامی ملک میں حضرت عمرؓجیسی حکومت کی ضرورت ہے۔

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں