عوام صدارتی نطام نہیں آئی ایم ایف، مہنگائی سے نجات چاہتے ہیں: سراج الحق

لاہور(پبلک نیوز) امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ معاشی بحران کی وجہ حکومت کی نالائقی ہے، وزراء نہیں پورا کابینہ ہی نااہل ہے، وزراء کی آنیاں جانیاں لگی ہیں، ہر حکومت غریبوں کیلئے عذاب بن جاتی ہے۔ حکومت نے عوام کو مایوس کیا ہے۔

 


مجلس شوری کا اجلاس جاری، ماضی کا جائزہ حال اور مستقبل کا لائحہ عمل، لاہور میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاسی اور معاشی بحران جاری جس کا اثر اشرافیہ پر نہیں غریب عوام پر ہے، ہر حکومت غریبوں کیلئے عزاب بن جاتی ہے۔ معاشی بحران کی وجہ حکومت کی نالائقی ہے، وزراء نہیں پورا کابینہ ہی نااہل ہے، وزراء کی آنیاں جانیاں لگی ہیں، جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا عوام کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔


سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ حقیقی تبدیلی والے افراد کو اکٹھا کریں گے، جو پاکستان کو آئی ایم ایف سے چھٹکارا دلانا چاہتے ہیں، ان کو اکٹھا کریں گے، ملک کو نظریاتی خطرہ بھی لاحق ہے، 9 ماہ حکومت تبدیل ہو گئی، تبدیلی نہیں آئی، آپس میں لڑا اور غل غپاڑہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے عوام کو مایوس کیا ہے۔ پی پی پی اور ن لیگ کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے یہ حکومت معرض وجود میں آئی۔ پی پی اور ن لیگ کے پانچ سال بعد حکومت کی نااہلی واضح لیکن انہوں نے 9 ماہ میں نااہلی ثابت کر دی۔

 

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پی ٹی آئی پی پی کا نیا چہرہ ہے۔ پی پی اور مشرف کے وزراء حکومت میں شامل، اس حکومت کی وجہ سے کرپشن میں اضافہ ہوا۔ کرپشن کا کوئی پیسہ ملک واپس نہیں آیا۔ اوورسیز پاکستانی خود پی ٹی آئی حکومت سے پریشان ہیں، جہاں مکہ مدینہ میں لوگ پی ٹی آئی کے حق میں دعائیں کرتے تھےوہ اب اس کے خلاف دعا کرتے ہیں۔ عوام صدارتی نطام نہیں ورلڈ بینک آئی ایم ایف اور مہنگائی سے نجات چاہتے ہیں۔ صدارتی نظام کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت آئی ایم اہف کی وفادار ہے۔

 

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک کے مسائل کا حل صدارتی نظام نہیں، حکومت اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے نئے نئے سوشے چھوڑ رہی ہے۔ صدارتی نظام میں ملک دو لخت ہوا بنگلہ دیش بنا۔ جمہوری نظام چلنا چاہیے، اس کے خلاف بربادی کا راستہ ہے، حکومت نئے سوشے کی بجائے عوام کے مسائل حل کرے، حالیہ بارشوں سے ملک آفت زدہ ہے حکومت ریلیف دے، ماہ رمضان آمد امد ہے کرسمس پر چیزیں مہنگی، لیکن رمضان میں مہنگائی، کیا یہ اسلامی ملک ہے؟ رمضان پیکج دیا جائے۔ ایمنسٹی سکیم چوروں لتیروں کو ریلیف اور کالے دھن کو سفید دھن کرنا ہے اور جماعت اسلامی اس کو مسترد کرتے ہیں۔

 

رمضان میں گیس اور بجلی کی صورتحال کو بہتر کیا جائے، نیشنل ایکشن پلان کو صرف دینی مدارس تک نہ رکھا جائے بلکہ اس پر پوری طرح عملدرآمد کرایا جائے۔ ملک میں گالی گلوچ سیاست افسوسناک ہے۔ مردوں اور خاتون کو صاحب صاحبہ ایک دوسرے کی نسبت کہنا اسلامی ملک کی تہزیب نہیں۔ ذوالفقار بھٹو دور میں بھی زبان پھسلا کرتی تھی پھر جمہوریت ختم ہو گئی۔ زبان نہیں سوچ پھسلتی ہے۔ ایران میں وزیراعظم کا بیان قومی سلامتی کے خلاف ہے۔ وزیراعظم اب اپنے عہدے کا پاس رکھیں، افغانستان یا پڑوسی ملک کو مشوروں کی بجائے اپنا قبلہ درست کریں۔ عوام کے مسئلے کی بات کی بجائے ذاتی مفاد کی سیاست کرتے ہیں۔


سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت کے 9 ماہ کے اقدامات افسوسناک ہے، نااہل وزراء کو جیل کی بجائے سائنس ٹیکنالوجی کی وزارت دے دیتے ہیں۔ حکومت وزراء کو ایڈجسٹ کر رہی ہے ملک نہیں چلا رہی، مقبوضہ کشمیریوں نے انڈیا الیکشن کا بائیکاٹ کیا لیکن حکومت کہتی ہے مودی کامیاب ہو گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا۔ کشمیر کی آزادی کیلئے کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی اپنے آخری خون کا قطرہ بھی بہانے کو تیار، مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پاکستان کو پانی نہیں ملے گا۔ عید الفطر کے بعد عوام کے پاس جائیں گے اور تحریک چلائیں گے۔ حکومت نے خود 100 دن مانگے۔ اب تو 9 ماہ ہو گئے ان کے پاس کوئی بہانہ نہیں رہا، اب چانس جماعت اسلامی کو ملنا چاہیئے، جو چاروں صوبوں میں موجود ہے۔

 

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں نے نواز شریف بے نظیر اور مشرف کو آزمایا اور اب عمران خان کو بھی آزما لیا، اب جماعت اسلامی کو بھی قوم آزما کر دیکھے، آندھیری رات ضرور ختم ہو گی، خوشحالی آئے گی، کسی بیساکھی کے محتاج نہیں جمہوری طریقے سے حکومت میں آنا چاہتے ہیں۔ 9 ماہ بعد شیر خوار بچہ بھی چلنا شروع کر دیتا ہے لیکن مصنوعی سہارے سے آنے والے کیسے چل سکتے ہیں، حکومت بجٹ میں مدارس کا فنڈ مختص کرے تاکہ مدرسے چندے کا محتاج نہ رہے۔ علاج ہر شہری کا حق ہے نواز شریف کے علاج کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں