'احتساب سب کیلئے' نیب کے نعرے نے عملی شکل اختیار کر لی

لاہور(مستنصر عباس) نیب کی جانب ایکشن لینے پر حکمران پارٹیوں کے کرتا دھرتا اور ان کے منظور نظر گرفت میں آگئے۔ نیب لاہور نے سیاستدانوں اور افسروں کے خلاف ریفرنسز دائر کر کے کارروائیاں یقینی بنائیں، اور کتنے ہی مقدمات زیر سماعت ہے۔

 

نیب اپنے چیئرمین کے حکم پر ایکشن میں آئی تو اس تو اس وقت کی حکمران پارٹی کے کرتا دھرتا اور ان کے منظور نظر گرفت میں آگئے۔ نیب نے صوبےکے چیف ایگزیکٹو شہباز شریف کیخلاف جنوری 2018 آشیانہ اقبال اسکینڈل کی چھان بین شروع کی، جس کے بعد 5اکتوبر 2018 کو انہیں گرفتا ر کیا گیا اور شہباز شریف 64 روز تک نیب کی تحویل میں رہے۔

 

شہباز شریف کیخلاف 14 ماہ گزرنے کے باوجود ریفرنس میں ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور شہباز شریف کو نیب سے ضمانت بھی مل گئی۔ نیب نے شہباز شریف اور ان کیخلاف بیٹے حمزہ شہباز کیخلاف رمضان شوگر ملز میں قومی خزانے کو 21 کڑور کا نقصان پہنچانے پر 8ماہ تک تحقیقات کر کے ریفرنس دائر کیا، تاہم ابھی فرد جرم عائد نہیں ہو سکی۔

 

ادھر نیب نے پیراگون اسکینڈ ل میں خواجہ برادرن کے خلاف 2017 کے اخر میں تحقیاقات شروع کی گئیں اور تقریبا ایک سال بعد گیارہ دسمبر 2018 کو ہائیکورٹ سے ضمانت خارج ہونے پر نیب نے انہیں گرفتار کیا، جس کے بعد وہ 54 روز تک نیب کی تحویل میں رہے نیب کی جانب سے پیراگون اسکینڈل کا ریفرنس تاھال عدالت میں دائر نہیں کیا جاسکا۔ حکمران جماعت کے وزیر بلدیات عبد العلیم خان بھی تقریبا 3 سال سے نیب نے الزامات کا سامنا کرنا رہے ہیں۔

 

نیب نے علیم خان آف شور کمپنیوں کے کیس میں 6فروری 2019 کو گرفتار کیا اور 34 روز تک جسمانی ریمانڈ پر اپنی تحویل میں رکھا، جبکہ ابھی تک اس کیس میں ریفرنس دائر نہیں کیا گیا۔ آشیانہ اقبال اسکینڈل میں شہباز شریف کے چہتے بیوروکریٹ احد چیمہ فروری 2018ء سے جبکہ فواد حسن فواد جولائی 2018 سے نیب کی گرفت میں ہیں۔ جبکہ نیب نے دونوں بیوروکریٹس کے خلاف غیر قانونی اثاثوں کا ریفرنس بھی دائر کر رکھا ہے، جو کہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں