65ء کی جنگ میں پاکستانی گلوکاروں اور فنکاروں کا کردار

پبلک نیوز: 1965ء کی جنگ میں ایک جانب پاک فوج کے افسر اور جوان محاذِ جنگ پر  بہادری  کا مظاہرہ کر رہے تھے تو دوسری جانب گلوکار اپنے نغموں سے ان کا جوش بڑھا رہے تھے۔

1965ء کی جنگ میں  پاک فوج کے ہمراہ پوری قوم شریک تھی۔ فنکار برادری نے بھی اس جنگ میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ جنگ کی خبر ملتے ہی گلوکار اور فنکار دشمن کو مات دینے کے لئے ریڈیو پاکستان پہنچے۔

میڈم نور جہاں نے 'میریا ڈھول سپاہیا، تینوں رب دیاں رکھاں' ریڈیو پاکستان سے گایا۔ اس نغمے نے جہاں پاک فوج کا لہو گرمایا وہیں دشمن کا مورال تہس نہس کر دیا۔

میڈم نور جہاں ہی کے دوسرے نغمے 'اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے' نے پاک فوج اور قوم کے حوصلے کچھ یوں بلند کیے کہ پسپائی اور رسوائی دشمن کا مقدر ٹھہری۔

عظیم گائیک مہدی حسن نے صرف 10 منٹ میں ایک اعلیٰ نغمے کی دھن مرتب کر کے اس کی موسیقی بھی ترتیب دے ڈالی ۔ یہ نغمہ آج بھی زبان زدِ عام ہے۔

پاک فوج مادرِ وطن پر قربان ہو رہی تھی ۔ پاک فوج کے پاک شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے نسیم بیگم نے وہ نغمہ گایا جو  شہداء کو دادِ تحسین  پیش کرنے کا مثالی طریقہ تھا۔

ان نغمات نے وہی کام کیا جو میدانِ جنگ میں پاک فوج کی بندوقوں نے کیا۔ مسعود رانا کا یہ نغمہ اس کی بہترین مثال ہے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں