سنگین غداری کیس: پرویز مشرف کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست منظور

اسلام آباد(پبلک نیوز) آئین شکنی کیس میں پیشی کے لئے سابق صدر پرویز مشرف کو ایک اور موقع مل گیا۔ پرویز مشرف عدالت پیش نہ ہوئے، خصوصی عدالت نے سابق صدر کی التواء کی درخواست منظور کر لی، سماعت 12 جون تک ملتوی کر دی گئی۔

 

سنگین غداری کیس کی سماعت جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے کی۔ وکیل پرویز مشرف نے بتایا کہ ان کے موکل بہت علیل ہیں، جسمانی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا، وہ چل پھر نہیں سکتے، بول بھی نہیں پا رہے، پاکستان نہ آنے پر شرمندہ اور معذرت خواہ ہیں۔ پرویز مشرف کے وکیل نے کیس ملتوی کرنے کی استدعا کر دی۔

 

پرویز مشرف کے وکیل نے دلائل دیئے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ 2007 کا ہے، وہ 2013ء میں وطن واپس آئے، 2014 میں فرد جرم عائد کی گئی، دو سال تین ماہ تک پاکستان میں رہے لیکن استغاثہ اپنا کیس ثابت نہ کر سکا، میں اپنے موکل کی معاونت کے بغیر عدالت کے سوالات کا جواب نہیں دے سکتا، مشرف کو پیش ہونے کیلئے ایک اور موقع دینے کی بھی استدعا کر دی۔

 

استغاثہ نے کیس ملتوی کرنے درخواست پر اعتراض کیا تو جسٹس طاہر صفدر نے اسستفسار کیا کہ التواء کی درخواست کے ساتھ میڈیکل رپورٹ بھی لگائی گئی ہے؟ جس پر وکیل استغاثہ نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ کے مصدقہ ہونے پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ عدالت نے ملزم کی التواء کی درخواست منظور کرلی، اور بریت کی درخواست پر وفاق کو نوٹس جاری کردیا، سماعت 12 جون کو دوبارہ ہو گی۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں