'ہر حال میں ادویات کی قیمتیں کم کی جائیں گی' چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت

اسلام آباد (پبلک نیوز) وفاقی سیکرٹری قومی صحت کی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس ہوا جس میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ادویات کی قیمتوں میں گذشتہ اضافہ 2001 میں کیا گیا تھا۔ 2013 میں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ دواساز کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کیلئے عدلیہ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے ادویات کی قیمتوں بارے دس ہفتوں میں فیصلہ کرنے کے احکامات جاری کئے۔ ڈریپ نے 395 ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ ڈریپ کی جانب سے ہارڈ شپ کوٹہ والی 464 ادویات کی قیمتیں بڑھائی گئی تھیں۔

سیکرٹری صحت نے آگاہ کیا کہ 30 ادویات کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔ 40 ہزار ادویات کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا۔ دواساز کمپنیوں نے 395 ادویات کی قیمتوں میں کمی کرنے سے انکار کر دیا۔

شرکاء اجلاس کے سامنے واضح کیا کہ دواساز کمپنیوں نے قیمتوں میں کمی کے بجائے سندھ ہائیکورٹ سے اسٹے لے لیا۔ سندھ ہائیکورٹ نے گزشتہ ماہ دواساز کمپنیوں کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ جن کمپنیوں نے ادویات کی قیمت کم نی کی ان کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ کل کیبنیٹ کی میٹنگ دوائوں کی قیمت کے حوالے سے اشو اٹھائیں گے۔

قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے چیئر پرسن میاں عطیق کا کہنا تھا کہ ہر حال میں ادویات کی قیمت کم کی جائے گی ہم جاننا چاہتے ہیں کہ قیمت کیسے بڑھی ہیں۔ مجھے بتایا جائے کہ کیسے ممکن ہے کہ قیمت بڑھی۔ ڈریپ اور منسٹری نے آخر کیبنٹ سے کیوں نہیں پوچھا۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں