ساہیوال واقعہ: چاہے استعفیٰ دینا پڑے ملوث افراد کو مثال بنا کر چھوڑیں گے،شہر یار آفریدی

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ سانحہ ساہیوال پر پوری قوم آبدیدہ ہے۔ سب کو کھٹک رہا ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہوگا۔ اس واقعے کا جواب اس حکومت کو دینا پڑے گا اور ہم دیں گے۔

قومی اسمبلی اس ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے ساہیوال واقعہ پر ان کا کہنا تھا کہ ہم پوری قوم، اپوزیشن اور اللہ کو جوابدہ ہیں۔ 18ویں ترمیم کے بعد یہ صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ آنے کے بعد بے شک پارلیمانی کمیٹی بنا دیں۔ چاہے اس عہدے سےستعفی ہونا پڑے اس کو مثال بنا کر رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ جب طاہر داوڈ کے معاملے میں ہمارے دل میں کھوٹ ہوتا تو محسن داوڑ کو جرگے میں نہ جانے دیتا۔ طاہر داوڑ کیس پر پارلیمانی کمیٹی بنا دی ہے۔ محسن داوڑ اس پارلیمانی کمیٹی کے رکن ہیں۔ پوری قوم سانحہ ساہیوال پر آبدیدہ ہے۔

قوم اپنے مستقبل سے پریشان ہے مگر ہم سب سیاست کررہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو الزامات دے رہے ہیں۔ اس واقعہ کا جواب حکومت کو دینا ہے اور ہم دیں گے۔ اس واقعہ کے ذمہ داران کو عبرتناک سزا دے کر دکھائیں گے۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد امن و امان صوبائی ذمہ داری ہے۔ اداروں کے درمیان موثر رابطہ ایک سوال ہے۔ مجھے استعفی ہی کیوں نہ دینا پڑے اس واقعہ کے ذمہ داران کو عبرتناک سزا دلواوں گا۔ طاہر داوڑ  اور حیات  اللہ کے واقعات پر ہر جگہ جانے کو تیار ہوں۔

طاہر داوڑ پر پارلیمانی کمیٹی بنی۔ ہم جے آئی ٹی اور پارلیمانی کمیٹی مل کر مسئلے کا حل ڈھونڈیں گے۔ پوری قوم اضطراب کا شکار اور آبدیدہ ہے۔ سب کو تشویش  ہے کہ  پاکستان اور ہمارا مستقبل کیا ہوگا۔ اس واقعے کا جواب موجودہ حکومت کو دینا پڑے گا اور ہم دیں گے۔

ملوث افراد کو کڑی سزا دی جائے گی۔ 18ویں  ترمیم کہتی ہے یہ صوبائی حکومت کا معاملہ ہے۔ فوجداری نظام موجودہ حالات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ موجودہ عدالتی نظام کے باعث فوجی عدالتیں بنانا پڑتی ہیں۔

الزامات در الزامات سے مسئلے کا دیرپا حل نہیں نکلے گا۔ جے آئی ٹی رپورٹ 3 دن میں آئے تو ایوان میں پیش کی جائے گی۔ ایوان چاہے تو کمیٹی بنا دے یا جو حل پیش کرے۔ مجھے چاہے استعفیٰ دینا پڑے ملوث افراد کو مثال بناکرچھوڑیں گے۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں