"پاکستان میں ہر سال 190ارب روپے کے موبائل فون سمگل ہو رہے ہیں"

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستان میں ملک کی مجموعی آبادی کا صرف 1 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے۔ بھارت میں یہ تعداد 4 فیصد تک ہے۔ ہرسال 190 ارب روپے کے موبائل فونز کی سمگلنگ ہو رہی ہے۔

 اس بات کا انکشاف ایف بی آر حکام نے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا۔ سینٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت کمیٹی نے فنانس ضمنی بل 2019ء میں غیر ظاہر شدہ آف شور اثاثے ظاہر ہونے پر بغیر نوٹس ایف بی آر کی جانب سے عبوری ٹیکس ریکوری کی تجویز مسترد کر دی۔

جبکہ نان فائلر کے لیے 13سی سی گاڑیوں کی خریداری کی اجازت کی تجویز بھی مسترد کر تے ہوئے 800سی سی تک نان فائلر کو گاڑیوں کی اجازت دینے کی سفارش کر دی۔

ایف بی آر حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں مجموعی آبادی کا صرف ایک فیصد افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ساڑھے 15لاکھ افراد نے ٹیکس ریٹرن جمع کرائی۔ یہ تعداد 60لاکھ تک ہونی چاہئے۔

بھارت میں مجموعی آبادی کا 4 فیصد افراد ٹیکس ادا کرتا ہے۔ 15 لاکھ گوشوارے آئے۔ 60لاکھ کو ٹیکس نیٹ میں شامل کریں گے۔ ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 10 ہزار ڈالر یا زائد کے غیر ظاہر شدہ آف شور اکاؤنٹس کے حامل افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بتایا کہ سالانہ 190ارب روپے کےموبائل فون کی سمگلنگ ہو رہی ہے۔ موبائل فون کی رجسٹریشن اور ٹیکسوں کے حالیہ اقدامات سے سالانہ 50ارب روپے کا ریونیو آئے گا۔

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں