عمران فاروق قتل کیس میں ڈیڑھ سال بعد تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ

اسلام آباد(پبلک نیوز) عمران فاروق قتل کیس، ڈیڑھ سال بعد تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا، تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ عمران فاروق قتل اتفاق نہیں، بانی ایم کیو ایم کو سالگرہ کا تحفہ تھا۔ ایم کیو ایم قیادت کے لئے عمران فاروق بڑا خطرہ تھے۔

 

ایم کیو ایم کے سابق سرکردہ رہنماء عمران فاروق سولہ ستمبر دو ہزار دس کو لندن میں قتل ہوئے۔ آٹھ سال سے مقدمہ زیر سماعت، اب ڈیڑھ سال بعد ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں تفتیشی افسر شہزاد ظفر کا بیان قلمبند کر لیا گیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے بیان ریکارڈ کیا۔

 

شہزاد ظفر نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ ملزم محسن علی اور خالد شمیم نے 7 جنوری دو ہزار سولہ کو دفعہ ایک سو چونسٹھ کے بیان میں جرم کا اعتراف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قتل کی سازش بانی ایم کیو ایم کے ایماء پر پاکستان میں تیار ہوئی۔ سازش میں ملزموں کی مالی معاونت لندن سے ہوئی۔ ملزم افتخار حسین پچیس ہزار پاؤنڈ لے کر کراچی آیا۔

 

تفتیشی افسر نے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے سولہ ستمبر دو ہزار دس کو عمران کا قتل اتفاقیہ نہیں بلکہ سترہ ستمبر کو بانی ایم کیو ایم کی سالگرہ پر تحفہ دینے کے لئے تھا، ایم کیو ایم لندن قیادت ڈاکٹر عمران فاروق کو اپنے لئے بڑا خطرہ سمجھتی تھی۔ عمران فاروق کو راستے سے ہٹانے کے لئے قتل کیا۔

 

تفتیشی افسر نے مقدمے میں مفرور ملزموں سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملوث ملزمان محمد انور، کاشف خان کامران اور افتخار حسین کو اشتہاری ملزم قرار دلوایا۔ مقدمے میں شامل کل تیرہ گواہوں کے بیانات مکمل۔ آخری گواہ  تفتیشی افسر کے بیان پر جرح کے لئے چھ نومبر کی تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں