وزیرِ خزانہ اسد عمر کے چند اقدامات سے ملکی معیشت سست روی کا شکار

اسلام آباد (پبلک نیوز) وفاقی وزیرِ خزانہ اسد عمر کے چند اقدامات سے ملکی معیشت سست روی کا شکار ہے۔ قانونی طورپر زرِ مبادلہ باہر بھیجنے میں شدید مشکلات پیدا ہو چکی ہیں۔ ادائیگیوں کے بحران کی وجہ سے کاروباری اداروں کو پریشانیوں کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نئے پاکستان میں کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے دعوے کیے گئے ۔ مگر وفاقی وزیرِ خزانہ اپنے انوکھے اقدامات سے الٹی گنگا بہا رہے ہیں۔ کاروباری طبقے سمیت عام عوام کو ملک سے باہر قانونی ذرائع سے  رقوم بھیجنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کی جانب سے ملک سے باہر زرِ مبادلہ کی ترسیل میں بلا وجہ رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ اور اسکا واحد مقصد ملک سے ڈالرز کو باہر جانے سے روکنا ہے۔

وزیرِ خزانہ کے اقدامات سے لگتا ہے کہ ملک میں زرِ مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی جامع حکمتِ عملی نہیں بنائی گئی۔ جان بوجھ کر ملکی معیشت کے پہیے کی رفتار کو مزید سست کیا جا رہا ہے۔ پچھلی حکومت بھی اربوں ڈالرز مارکیٹ میں جھونکتی تھی تاکہ روپے کی قدرمستحکم رہے۔

مگر اسد عمر ڈالرز باہر بھیجنے میں رکاوٹ پیدا کر کے کاروباری طبقے ہی نقصان پہنچانے کے در پے ہو گئے ہیں۔ اس اقدام کے اثرات عام عوام کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں فارن کرنسی اکاؤمنٹس ممد   کر دیے گئے تھے ۔ اسد عمر ایسا تو نہیں کر رہے مگر عملاً ڈالرز کی بیرونِ ملک ترسیل میں روڑے ضرور اٹکا رہے ہیں۔ یہ اقدام فارن کرنسی  اکاؤنٹس فریز کرنے جیسا سنگین تو نہیں بہر حال اس سے ملتا جلتا ضرور ہے ۔جس کا نتیجہ بالآخر عوام اور ملکی معیشت ہی کو بھگتنا پڑے گا۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں