عمران خان کا کرکٹر سے وزیر اعظم پاکستان بننے تک کا سفر

(پبلک نیوز) دور حاضر میں عمران خان، ہمت، جرات، ثابت قدمی اور بلند حوصلے کی مثال بن چکے ہیں۔ عمران خان 22 سالہ طویل جدوجہد کے بعد وزیراعظم پاکستان کے منصب پر پہنچے۔

کامیابی کبھی پلیٹ میں ڈال کر پیش نہیں کی جاتی۔ سماج کی بندشیں توڑ کر۔ مشکلوں کا سینا چیر کر۔ حالات کی دلدل سے نکل کراسے حاصل کرنا پڑتا ہے۔اور یہ کرکے دکھایا۔ پاکستان کے کپتان عمران خان نے۔ عمران خان نے ایک اپر مڈل کلاس گھرانے میں پرورش پائی۔ اچھی تعلیم حاصل کی۔ بیرون ملک گئے۔ عمران خان نے جوانی کا ایک بڑا عرصہ مغرب میں گذارا لیکن مشرقی روایات کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا۔


عمران خان کو کرکٹ کا شوق نہیں جنون تھا۔ زمانہ طالبعلمی میں کرکٹ کا شروع ہونے والا سلسلہ پاکستان ٹیم کی قیادت تک پہنچا۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں عمران خان کا آغاز متاثر کن نہیں تھا۔ پہلا ٹیسٹ ہو یا پہلا ون ڈے، عمران خان نہ صرف وکٹ سے محروم رہے بلکہ بلے بازی کے جوہر بھی نہ دکھا پائے۔ لوگوں نے بہت تنقید کی لیکن عمران اپنی دھن کے پکے اور لگن کے سچے ثابت ہوئے۔ اور پھر وہ وقت آیا، عمران خان پاکستان ٹیم کے کپتان بنے۔1992 میں عمران خان نے ایک نوجوان ٹیم کے ساتھ کرکٹ ورلڈ کپ جیت کر دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچا دیا۔ وہ ٹیم جو پہلے راؤنڈ سے آگے نہیں پہنچ پا رہی تھی، اس نے بڑے بڑے برج الٹ دئیے۔


ورلڈ کپ جیت کر عمران خان قومی ہیرو بن گئے۔ لوگ ان کی جھلک دیکھنے کو بیتاب رہتے تھے۔ عمران چاہتے تھے کہ اس قوم کے لئے کچھ کیا جائے۔ تو انھوں نے ارادہ کیا کینسرہسپتال بنانے کا، جہاں غریبوں کا مفت علاج ہو۔ لوگ کہتے تھے یہ ہو نہیں پائے گا لیکن عمران ہمت نہ ہارے اور اپنے عزم پر ڈٹے رہے۔ شوکت خانم ہسپتال نہ صرف پاکستان کا واحد بلکہ سب سے بڑا کینسر ہسپتال بنا۔


کرکٹ سے فراغت کے بعد عمران خان کا سیاست میں آنے کا کوئی خاص ارادہ نہیں تھا، پر جب انھوں نے ملک کی بگڑتی ہوئی صورتحال دیکھی، تو ٹھان لی کہ ملک کو سدھارنا ہے۔ اس ملک کو کرپشن سے پاک کرنا ہے۔ ملک میں انصاف لانا ہے۔اور عمران خان نے 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔

 

پھر وہی ہوا جو ان کے ساتھ ہوتا آرہا تھا۔کپتان کو شدید مشکلات کا سامنا ہوا۔1997ء کے عام انتخابات میں ان کی پارٹی کو ایک بھی سیٹ نہ ملی۔عمران نے ہمت نہ ہاری۔2002ء کے انتخابات میں عمران خان صرف اپنی سیٹ ہی جیت سکے۔عمران خان نے 2008ء میں آمریت کے زیرسایہ ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔عمران خان رکے نہیں، تھمے نہیں، جدوجہد جاری رہی۔

 

30اکتوبر 2011ء لاہور مینار پاکستان پر ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف نے سیاست کے بڑے بڑے سورماؤں کو حیران پریشان کر دیا۔ تحریک انصاف پاکستان کی نئی سیاسی قوت بن کر ابھری۔ پھر 2013 کے دھاندلی زدہ انتخابات ہوئے۔ عمران خان نے الیکشن تو قبول کرلیا لیکن نتائج ماننے سے انکار کر دیا۔ عمران خان نے دھاندلی کیخلاف ہر آئینی اور قانونی دروازے پر دستک دی۔ جب داد رسی نہ ہوئی تو دھرنے کا اعلان کر دیا۔14 اگست 2014 کوعمران خان نے آزادی مارچ کی قیادت کی اور اسلام آباد میں 126 دن کا دھرنا دیا۔ دھرنے نے عمران خان کے حوصلے کو مزید تقویت بخشی۔


پھر یوں ہوا کہ پانامہ آیا۔ معلوم ہوا کہ حکمرانوں نے عوام کا پیسہ کھایا۔ عمران خان نے بیڑہ اٹھایا۔ کرپٹوں کو تخت سے ہٹایا۔ رلایا، تڑپایا اور بلآخر جیل پہنچایا دیا اور پھر وہ دن آگیا۔ 25 جولائی 2018 عمران خان کی جدوجہد، محنت، کوشش، ثابت قدمی کا پھل ثابت ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔ آج عمران خان وزیراعظم پاکستان ہیں۔

عطاء سبحانی  11 ماه پہلے

متعلقہ خبریں