بھارت کا ڈر اور بد نیتی، پاکستانی طلبہ کو دہشتگرد قرار دیکر پوسٹر آویزاں کر دیئے

پبلک نیوز: بھارتی ڈر اور بد نیت کی ایک اور مثال سامنے آ گئی۔ گنڈا سنگھ بارڈر پر سیر کو گئے 2 پاکستانی شہریوں کی تصویر نے بھارت سرکار کی نیندیں اڑادیں۔ دونوں طالب علموں کو دہشتگرد قرار دے کر اپنے ہی  شہریوں کو ڈرانا شروع کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق فیصل آباد کے دو شہری گنڈا سنگھ بارڈر گئے اور اپنی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی۔ یہ تصویر اس سنگ میل پر بنائی گئی جس پر دہلی 360 اور فیروز پور 9 کلو میٹر درج ہے۔ تصویر دیکھتے ہی بھارت کی خفیہ ایجنسیوں اور پولیس کی دوڑیں لگ گئیں۔

پولیس نے دونوں شہریوں کے جا بجا پوسٹرز چسپاں کر دیئے۔ بھارتی میڈیا نے بھی پاکستانی نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر اپنے عوام کو الو بنانا شروع کر دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ دونوں نوجوان فیصل آباد کے ایک مدرسہ میں زیر تعلیم ہیں اور سیر کی غرض سے گنڈا سنگھ بارڈر گئے تھے۔ مگر بھارتی ایجنسیوں اور میڈیا کا پاکستان کے حوالے سے یہ پہلا ڈرامہ نہیں ہے۔ بھارت نے اس سے قبل بھی ایسے کئی ڈرامے رچائے ہیں۔

بھارتی کوسٹ گارڈ نے دسمبر 2015 میں ایک کشتی جلا کر دعویٰ کیا کہ اس میں پاکستانی دہشت گرد موجود تھے۔ پٹھانکوٹ حملہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کی بات کی گئی لیکن اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور یہ فلاپ ڈرامہ اپنی موت آپ مرگیا۔

بھارت ممبئی حملوں کے بعد سے اجمل قصاب کو ان حملوں کا ماسٹر مائنڈ اور پاکستانی شہری بتاتا رہا ہے۔ تاہم حملوں کے دس سال بعد آخر کار سچ سامنے آ گیا اور وہی ماسٹر مائنڈ اُتر پردیش کا نکل آیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ سمجھوتا ایکسپریس پر حملہ کا الزام بھی پاکستان پر لگایا گیا جبکہ اس میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد ملے۔

بھارتی پولیس کی جانب سے ایک کبوتر کو بھی گرفتار کر کے رکھا گیا اور اسے پاکستانی جاسوس بتایا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ کبوتر کا پیٹ چاک کر کے آلاتِ جاسوسی تلاش کیے گئے مگر منہ کی کھانا پڑی۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں