سپر ماڈل ڈالر گرل ایان علی اور پاکستان کا نظام عدل

سپر ماڈل، ڈالر گرل ایان علی۔ مُلک سے باہر ہیں۔ انکا کیس پورے نظامِ عدل پر سوال ہے۔ کیس کی تاریخ پر تاریخ لگ رہی ہے اور موصوفہ دیارِ غیر میں مزے میں ہیں۔ اور کیس ہے کہ چیونٹی کی چال اپنائے ہوئے ہے۔ اس نازک اندام مگر طاقتور حسینہ نے سارے نظام ہی کو ہائی جیک کر رکھا ہے۔

مالِ مسروقہ برآمد۔ اور وہ بھی 5لاکھ ڈالرز۔ سے زائد۔ مگر تا حال ہوا کچھ بھی نہیں۔ ملزمہ ملک سے فرار۔ پورے نظامِ عدل پر سوال۔ ایک ماڈل گرل کے ہاتھوں وطنِ عزیز کا نظامِ انصاف بے بسی، لاچاری اور بے کسی کی عملی تصویر بن چکا ہے۔ یہ ہے کیس ڈالر گرل ایان علی کا۔ شکلاً بھولی بھالی اور خوبرو۔ یہ صنفِ نازک۔ نظامِ عدل کو بظاہر مفلوج کرنے کی زندہ مثال ہیں۔

موصوفہ 14 مارچ 2015 کو بینظیر انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں دھر لی گئی تھیں۔ ان کےسامان سے 5لاکھ ڈالرز۔ سے زائدکی خطیر رقم بازیاب کی گئی تھی۔ یعنی مالِ سروقہ موقع ء واردات ہی پر برآماد ہوگیا تھا۔

 مگر پھرکیا ہوا۔ کیس کی تفتیش کرنے والا افسر۔ اتار دیا گیا موت کے گھاٹ۔ سپر ماڈل کچھ عرصہ اندر رہیں۔ ضمانت پر رہا ہوئیں اور پھر ملک ہی سے اڑن چھو ہو گئیں۔ اور ایسی گئیں کہ واپسی کی راہ ہی بھول چکیں۔ سارے نظامِ عدل پر سوال اٹھ گیا۔ سندھ میگا منی لانڈرنگ سکینڈل کی جے آئی ٹی پردورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ اس ملزم حسینہ کے اکاؤنٹ کے ذریعے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک جعلی اکاؤنٹ سے ایان علی کے اکاؤنٹ میں رقوم منتقل ہوئیں جن کے دستاویزی ثبوت بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ انکے 88 غیر ملکی دورے بھی مشتاق نامی شخص کے جعلی اکاؤنٹس ہی کے مرہونِ منت ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایک ماڈل گرل اور اس قدر طاقتور؟ آخر ماجرا کیا ہے؟ یہ کیس پورے نظامِ عدل پر سوال، آخر ایسا کیونکر ممکن ہوا؟ کیا ملک کا نظامِ انصاف ایان علی کے سامنے ہتھیار ڈال چکا ہے؟ ڈالر گرل کی اس طلسماتی طاقت کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ؟ ان کے پیچھے ہے تو ہے کون؟ کس طرح ایان علی نظامِ انصاف کو خون تھکوا رہی ہیں؟کیا ان کو وطن واپس لانا ممکن ہے؟ اگر ہاں تو کب تلک؟

احمد علی کیف  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں