سپریم کورٹ نے میشاء، علی ظفر کو غیر ضروری درخواستوں سے روک دیا

اسلام آباد (پبلک نیوز) سپریم کورٹ نے میشا شفیع کی سن لی، گواہان کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ علی ظفر کے وکیل کو ایک ہفتے میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم  دیتے ہوئے میشا شفیع اور علی ظفر کو غیر ضروری درخواستیں  دائر نہ کرنے کی ہدایت کر دی۔

میشا شفیع  جنسی ہراسانی کیس میں اہم موڑ پر آ گیا۔ سپریم کورٹ نے میشا شفیع کی درخواست منظور کرلی۔ گواہوں کے بیانات اور جرح ایک ساتھ کرنے کی اجازت دے دی۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ میشا شفیع کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میشاء شفیع علی ظفر کے تمام گواہان کو نہیں جانتی، گواہان علی ظفر کے ملازمین ہیں، جس پر علی ظفر کے وکیل نے کہا کہ کوئی گواہ علی ظفر کا ملازم نہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ علی ظفر کا میشاء شفیع کی درخواست پر بنیادی اعتراض کیا ہے؟ علی ظفر کے وکیل نے بتایا کہ قانون کے مطابق گواہ کا بیان اور جرح ایک ہی دن ہوتے ہیں۔ جس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ بیان اور جرح ایک دن ہونے کا اختیار عدالت کا ہے۔

وکیل میشا شفیع نے کہا کہ گواہان کی لسٹ مل جائے تو ایک دن میں جرح کر لیں گے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کو مقررہ وقت میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے گواہان پر بیان کے فوری بعد جرح کرنے کا ڈسٹرکٹ کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ میشا شفیع کے وکیل نے عدالت سے تیاری کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی۔ عدالت نے 7 روز میں تیاری مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ تیاری کے بعد ایک ہی روز گواہوں پر جرح مکمل کرنے کی کوشش کی جائے۔

عدالت نے علی ظفر کے وکیل کو سات دن میں گواہوں کے بیان حلفی جمع کرانے کا حکم  بھی دے دیا۔ سپریم کورٹ نے میشاء شفیع اور علی ظفر کو غیر ضروری درخواستیں دائر کرنے سے بھی روک دیا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری التواء نہ دیتے ہوئے ٹرائل جلد مکمل کرے۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں