سپریم کورٹ نے وزیراعظم کے زبانی حکم پر کیا گیا آئی جی کا تبادلہ روک دیا

اسلام آباد (پبلک نیوز) سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ کینسل کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔ سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ انہیں آئی جی اسلام آباد کے تبادلے سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے تبادلہ کیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی پنجاب کی طرح ہی آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کا ازخود نوٹس لے کر سیکریٹری داخلہ اور اٹارنی جنرل کو فوری طور پر عدالت میں طلب کیا اور وضاحت طلب کی کہ کن وجوہات پر آئی جی کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔

سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے جواب دیا کہ وزیراعظم دفتر کا یہ خیال تھا کہ آئی جی اسلام آباد کا رسپانس پور ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ  اگر آئی جی کی غلطی تھی تو آئی جی کو شوکاز نوٹس جاری کرکے فارغ کرتے۔  چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ کسی وزیر کی سفارش پر آئی جی کا تبادلہ کیا گیا، ہمیں یہ بھی پتا چلا ہے کہ کسی وزیر کے بیٹے کا مسئلہ تھا اس وجہ سے آئی جی کو ہٹایا گیا۔ آپ کو نہیں معلوم کہ آئی جی کا سواتی کے ساتھ جھگڑا چل رہا ہے؟

بعدازاں اٹارنی جنرل  نے آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کیا کہ آئی جی اسلام آباد جان محمد کو وزیراعظم عمران خان کے زبانی حکم پر ہٹایا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کو زبانی حکم دینے کی کیا جلدی تھی۔ کیا حکومت زبانی احکامات پر چل رہی ہے، پاکستان اس طرح نہیں چلے گا، جس کا جو دل کرے اپنی مرضی چلائے، ایسا نہیں ہوگا، اب پاکستان قانون کے مطابق چلنا ہے، زبردستی کے احکامات نہیں چلیں گے۔ وزیراعظم نے زبانی کہا اور تبادلہ کر دیا گیا۔ کیا یہ نیا پاکستان ہے؟

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ سیکریٹری داخلہ اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ آپ ریاست کے ملازم ہیں۔ آپ غلط حکم ماننے سے انکار کردیں۔ چیف جسٹس کا فائل اٹھا کر ریمارکس دیئے کہ یاد رکھیں عدالت نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی ایسے ہی مقدمہ میں طلب کیا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار والا واقعہ دہرایا جارہا ہے جو عدالت نہیں ہونے دے گی۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو بدھ تک تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

حارث افضل  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں